بھارتی جیلوں میں قید13پاکستانی آج حکام کے حوالے کیے جائیں گےIndia
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی جیلوں میں قید13پاکستانی آج حکام کے حوالے کیے جائیں گے

اسلام آباد : پاکستان کاجذبہ خیرسگالی رنگ لےآیا، بھارت نے بھی تیرہ پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ، نو ماہی گیروں سمیت تیرہ پاکستانی آج حکام کے حوالےکیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جذبہ خیر سگالی کی کوششیں رنگ لے آئیں، بھارت آج جیلوں میں قید 13پاکستانیوں کو حکام کے حوالے کرے گا، 9 ماہی گیراور4عام شہریوں کو
واہگہ بارڈر پر حوالے کیا جائیگا۔

دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ تمام پاکستانی قیدی بھارت کی مختلف جیلوں میں قید تھے، رہا ہونیوالوں میں بھارتی جیل میں مبینہ طور پر منشیات کے مقدمہ میں سزا کاٹنے والی فاطمہ بی بی ، اسکی جیل میں پیدا ہونے والی بیٹی حنا اور بہن ممتاز بی بی بھی شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن حکام کی موجودگی میں قیدیوں کو حوالے کیا جائیگا، پاکستانی ہائی کمیشن قیدیوں کی رہائی کیلئے بھارتی حکام سے رابطےمیں رہا۔

خیال رہے کہ آٹھ مئی دوہزار چھ کو فاطمہ اسکی بہن ممتاز اور ان کی والدہ بھارت اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئیں، اٹاری ریلوے اسٹیشن پر انہیں مبینہ طور پر منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور امرتسر کی عدالت نے ساڑھے دس سال قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانہ کا حکم سنایا تھا۔


مزید پڑھیں : کراچی:لانڈھی جیل سے68بھارتی ماہی گیررہا


یاد رہے 2 روز قبل پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارت کے اڑسٹھ ماہی گیر رہا کیا تھا،  ان ماہی گیروں کو مختلف اوقات میں سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے ماضی میں‌ بھارت ماہی گیروں کے زریعے اپنے منظم مقاصد کے حصول کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم اس کی یہ کوشش پاکستان نے ناکام بنائی ہے۔

واضح رہے کہ بحیرہ عرب میں سمندری حدود کی خلاف ورزی اور اسکے نتیجے میں گرفتاریاں دونوں ممالک کی جانب سے معمول کی بات ہیں۔

سمندری حدود کی واضح تقسیم نہ ہونے اورماہی گیروں کی کشتیوں میں سمندری حدود کا تعین کرنے والے جدید آلات نہ ہونے کے باعث اکثر دونوں ممالک کے ماہی گیرغلطی سے سرحد پار کرجاتے ہیں اور اکثر ماہی گیر اپنی سزا کی مدت ختم کرنے کے باوجود کمزور سفارتی تعلقات کے باعث جیل میں رہ جاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں