site
stats
حیرت انگیز

جج سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑدیتا ہے؟

Judge decision

عدالت میں جج جب کسی ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ دیتا ہے تو فیصلہ تحریر کرتے ہوئے اپنے پین کی نب بھی توڑ دیتا ہے، جج ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جوابات ہم قارئین کی دلچسپی کیلئے تحریر کرنے جا رہے ہیں۔

مجرم کو سزائے موت کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑنے کارواج برصغیر میں آج بھی قائم ہے جہاں آج بھی عدالت میں سزائے موت دینے کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑ دی جاتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج سے شروع ہونے والی ججوں کی اس روایت کی کئی توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ زبان زدعام یہ روایت ہے کہ جج کی جانب سے سزائے موت کی سزا کے بعد پین کے بعد پین کی نب اس لیے توڑی جاتی ہے کہ وہ پین جوکسی کی زندگی کے خاتمے کی وجہ بنےاب وہ پین کسی اوردوسرے کام کےلیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

حیرت انگیز قتل‘ تدفین کے چھ ماہ بعد مقدمہ درج*

دوسری معروف توجیہہ یہ ہے کہ جج اس لئے پین کی نب توڑ دیتا ہے کہ تاکہ اگر وہ کسی کو موت کی سزا سنادے اور لکھ دے تو پھر کوئی اس سزا کو تبدیل نہ کرسکے اور نہ ہی وہ اپنے حکم کی نظرثانی یا اس فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرسکے، اگر وہ چاہے بھی توبھی نہ کر سکے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب جج یہ سزا کسی مجرم کو سناتا ہے تو جج کی جانب سے پین کی نب توڑنا اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور آخری وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جج پین کی نب اس لئے توڑ دیتا ہے کہ وہ مجرم کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر نادم نہ ہو اور اسے کوئی پچھتاوا نہ ہو اس لئے وہ اس پین کی نب توڑ کر اسے ناقابل استعمال بنا کر اپنے سے دور کر دیتا ہے تاکہ یہ فیصلہ اسے کچھ یاد نہ دلائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top