The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ کو پارلیمنٹ کے قانون پر نظر ثانی کا اختیار ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی اور اگر ایسا کوئی قانون بنایا گیا تو سپریم کورٹ کے پاس اُس کی نظر ثانی کا اختیار بھی ہے۔

میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ضرور ہے مگر اس سے اوپر آئین بھی موجود ہے،ہر ادارے کی حدود مقرر ہیں ایوان اگر بنیادی حقوق سے متصادم قوانین بنائے تو عدالت اُس کے جائزے کا اختیار رکھتی ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی مقدمے کو سمجھنےکے لیے سوالات کیے جاتے ہیں اور سماعت کے دوران ریمارکس دیے جاتے ہیں، ہم کسی کو ریمارکس سے متعلق وضاحت دینے کے پابند نہیں ہیں، سوالات پوچھنے پر یہ تاثر دیا گیا کہ پارلیمنٹ کی توہین کی گئی، ٹھیک ہے آئندہ ہم سوالات نہیں کریں گے بلکہ فیصلہ دیتے وقت آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ لیں گے۔

مزید پڑھیں: کیا اجازت لے کر قانون سازی کریں؟ شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں‌ خطاب

اُن کا کہنا تھا کہ سماعت کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سرخیوں میں لگایا جاتا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ درست عمل ہے؟۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیمرا خود مختار ادارہ نہیں لگتا کیونکہ چینلز بند کرنے کا کام حکومت کا نہیں بلکہ پیمرا کا ہے، چینلز کھلوانے کا حکم جاری کرنے والا تھا کہ رجسٹرار نے چیئرمین پیمرا سے بات کی اور انہوں نے 2 بجے تک تمام چیلنز کھولنے کی یقین دہانی کروائی۔

یہ بھی پڑھیں: قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے، کسی اور کا نہیں، خورشید شاہ

اسے بھی پڑھیں: ججزکے طرزعمل کو پارلیمنٹ میں زیربحث لایا جائے، شاہد خاقان عباسی

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پیمرا کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں؟، کیونکہ پیمرا آئیڈیل اور آزاد ادارے کے طور پر کام کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں کروڑوں عوام کے منتخب نمائندے موجود ہیں مگر انہیں عدالتوں کی جانب سے چور کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں