The news is by your side.

Advertisement

پچیس سال قبل مرنے والے کویتی کا انوکھا مطالبہ

کویت سٹی: کویت میں‌ ایک شہری نے وزارت انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں‌ ’دوبارہ زندہ‘ کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے عبدالمحسن العیدی نامی ایک کویتی شہری پر انکشاف ہوا کہ سرکاری دستاویزات میں انھیں 25 برس قبل مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔

وزارت قانون سے اپنے مختارنامے کی تصدیق کے سلسلے میں القرین سینٹر جانے والے شہری کو جب خاتون اہل کار نے کافی ساری تفتیش کے بعد اچانک کہا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق آپ پچیس برس قبل مر چکے ہیں، تو عبدالمحسن العیدی چکرا کر گر پڑے۔

کویتی اخبار الرائی کی رپورٹ کے مطابق عبدالمحسن العیدی 1992 سے اپنی بیوی کے معاملات میں عمومی مختار نامے (جنرل پاور آف اٹارنی) کی رُو سے قانونی طور پر ذمہ دار ہے۔

اپنی بیوی کے بیمار اور ضعیف ہونے کی وجہ سے جب وہ ایک کام کے سلسلے میں القرین سروس سینٹر گئے تاکہ وزارت قانون سے اس مختار نامے کی تصدیق بھی کروا کر جان سکے کہ وہ آج بھی قابلِ قبول ہے یا نہیں، تو وہاں موجود خاتون اہل کار نے مختار نامے کی نقل اس سے لے لی اور انتظار کرنے کو کہا۔

خاصی دیر کے بعد خاتون اہل کار نے عبدالمحسن سے اس کا سرکاری شناختی کارڈ مانگا، وہ بار بار سرکاری کاغذات سے اس کے دستخط اور چہرے کو ملا کر دیکھتی رہی، تب خاتون نے پوچھا کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ہی عبدالمحسن ہیں؟ کیوں کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ 25 سال پہلے مرچکا ہے۔

شہری کو معلوم ہوا کہ مرنے کی وجہ سے ان کا مختارنامہ بھی غیر مؤثر ہو چکا ہے، اس پر انھوں نے وزارت انصاف میں درخواست دے کر مطالبہ کیا کہ اسے ’دوبارہ زندہ کیا جائے‘ کیوں کہ اپنی ’موجودہ حیثیت‘ میں نہ تو مختار نامہ اس کے کام کا ہے اور نہ ہی وراثت کی تقسیم میں اس کا کوئی حصہ ممکن ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں