The news is by your side.

ایک بار پھر بھارت کا ‘مکروہ چہرہ’ بے نقاب، رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

ہندوستان میں اقلیتوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ کرونا وبا کے دوران بھارت اقلیتوں کو ہدف بنانے میں سرفہرست رہا۔

یہ انکشاف امریکا کے تھنک ٹینک ’پیو ریسرچ سینٹر‘ نے اپنی ایک چشم کشا تحقیق میں بتایا، رپورٹ کے مطابق کرونا بحران کے دوران بھارت میں مذہبی بنیاد پر اقلیتوں کو سب سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار بیس میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے سوشل میڈیا پر کئی مہم بھی چلائی گئی، کورونا وبا کے دوران الگ الگ طرح کے ہیش ٹیگ چلا کر اقلتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کرونا جہاد جیسے ہیش ٹیگ بھی شامل تھے۔پیو ریسرچ سینٹر کی یہ رپورٹ 29 نومبر کو جاری کی گئی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 2020 میں جب کورونا وبا کو لے کر پابندیاں لگائی گئی تھیں تو کیسے دنیا بھر میں مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

کورونا کے آغاز میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں تبلیغی جماعت کو لے کر جو تنازعہ ہوا تھا، اسے بھی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کس طرح اسلاموفوبک ہیش ٹیگ استعمال کیے گئے تھے اور مسلمانوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ کورونا پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

اس تحقیق کے لئے پیو ریسرچ سینٹر نے مجموعی طور پر دنیا کے 198 ممالک کو اپنے دائرہ کار میں لیا، اسٹڈی میں ایسے گیارہ ممالک کا بھی انتخاب کیا گیا، جن کی ایس ایچ آئی (سوشل ہاسٹلٹیز انڈیکس) میں سب سے خراب کارکردگی رہی۔

اس فہرست میں نائیجیریا، افغانستان، اسرائیل، مالی، صومالیہ، پاکستان، مصر، لیبیا اور شام جیسے ممالک شامل تھے تاہم بھارت نے ان تمام ممالک کو پیچھے چھوڑدیا۔

پیو ریسرچ سنٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت کی ایس ایچ آئی رینکنگ پہلے سے ہی خراب تھی، جب یہاں 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے، اس وقت بھی ہندوستان انڈیکس کی ’ویری ہائی‘ کیٹگری میں شامل تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں