اب وقت آگیا ہے غداری کرنے والے ڈکٹیٹر کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے‌، نوازشریف
The news is by your side.

Advertisement

وطن دشمن اورغدارکہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، نوازشریف

مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کے سبب مجھے نا اہل کیا گیا

اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا کہ وطن دشمن اور غدار کہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، شاید قانون کے سارے ہتھیار سیاستدانوں کے لئے ہیں اب وقت آگیا ہے غداری کرنے والے آمروں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جو بیان آج عدالت میں دیا، چاہتا ہوں آپ کے سامنے بھی پڑھ دوں، میرے لیے تو ہرجگہ عدالتیں لگائی گئی ہیں، میرے خلاف کیسز کا پس منظرکیا ہے سب بتانا چاہتا ہوں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ میری نااہلی کے محرکات قوم جانتی ہے، 12 اکتوبر1999 کو مشرف نے آئین سے بغاوت کی، اقتدار پر قبضہ کیا، منصفوں نے مشرف کے ہاتھ پر بیعت کی، مشرف نےایمرجنسی کےنام پر پھرمارشل لالگایا، مشرف نے جج صاحبان کو گھروں میں قید کیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اس شرمناک فعل کی نظیر شاید کہیں ہی ملتی ہو، مشرف کےغیرآئینی اقدام پرواضح مؤقف اختیار کیا، ن لیگ نے مشرف کے غیرآئینی اقدامات پر اپنا مؤقف اختیارکیا، ہماری حکومت نے مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا آغاز کیا، مشورہ دیا گیا بھاری پتھر اٹھانے سے گریز کریں مشکلات پیدا ہوں گی، ان مشوروں کرنظرانداز کرکے ہم نے غداری کے مقدمے پر کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرف کےخلاف عوام نے ہمارے مؤقف کی تائیدکی، مشورے نما دھمکیوں پر میں نے دھیان نہیں دیا۔ آمروں نے ملک کو گہرے زخم لگائے، اب وقت آگیا ہے غداری کرنے والے آمروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، 2013 کے آخر میں مجھے اندازہ ہوگیا ڈکٹیٹر کو کٹہرے میں لانا آسان نہیں، شاید قانون کے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لیے بنے ہی

نواز شریف نے کہا کہ آپ کو یاد ہے ایک شخص اپنے محل سے عدالت کے لیے نکلا، وہ شخص عدالت کے بجائے اسپتال پہنچا اور پر اسرار بیماری کا بہانہ کیاگیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مشرف پرمقدمہ کرنے کی وجہ سے مجھے دباؤ کا سامنا رہا، کوئی وجہ نہ ملی توانتخابات میں نام نہاد دھاندلی کا الزام لگایا گیا، دھرنوں کے پیچھے بھی اس قسم کے محرکات کار فرما تھے۔

انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے مقدمے میں جیسے ہی تیزی آئی لندن میں طاہرالقادری اورعمران خان کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں اسلام آباد میں دھرنوں کا فیصلہ کیا گیا جو 4  ماہ جاری رہے، دھرنوں میں جوکچھ ہواوہ سب عوام کے سامنے ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ دھرنوں کا ایک مقصد تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں، دھرنوں کے پیچھے کون تھا، وہ جو کوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی، جابروں کے سامنے قانون کے ہتھیار پگھل جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کوئی آئین سے غداری کرنے والے ڈکٹیٹر کو ہتھکڑی نہیں ڈال سکا، کون 4ماہ تک مسلسل دھرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی، عمران خان امپائرکی انگلی کی بات کرتے تھے،کون تھا وہ امپائر، وہ امپائر جو بھی تھا دھرنے کو اس کی پشت پناہی حاصل تھی، دھرنے کا مقصد مجھے وزیراعظم ہاؤس سے نکالنا تھا تاکہ مقدمہ نہ چل سکے۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ  دھرنےسوچا سمجھا حملہ تھا وزیراعظم کو باہر نکالنا مقصد تھا، اعلان کیا گیا تھا وزیرعظم کے گلےمیں رسی ڈال کر باہر لائیں گے،  اس قسم کے اعلانات سے مجھے بہت دکھ اوررنج ہوا، افسوس کہ وزیراعظم کے مستعفی یا طویل رخصت پر جانے کا مطالبہ کیا گیا، مجھے راستے سے ہٹانے سےمشرف کے خلاف مقدمہ بھی نہیں رہےگا۔

سابق وزیر اعٖٖظم نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹرکو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے، آمروں نےاس ملک کوشدید نقصان پہنچایاہے،  ڈکٹیٹرشپ ایک یادو لوگ کرتےہیں لیکن پورا ادارہ تنقید کی زدمیں آتاہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ  مسلح افواج کوعزت اوراحترام سے دیکھتا ہوں، بہادرسپوتوں نےمادروطن کے لیے اپنےخون کانذرانہ پیش کیا ہے، مجھے راستے سے ہٹا کر مشرف کے مقدمے سے جان چھڑانی تھی، اقتدارکی لذتیں چند جرنیلوں کو ملتی ہیں قیمت مسلح فوج کو اٹھانی پڑتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں نےبھارت کےجواب میں ایٹمی دھماکےکرنےکافوری حکم دیا، کوئی شک نہ تھاایٹمی دھماکےنہ کرنےسےخطےمیں عدم توازن ہوگا، سب سے پہلےمشاہدحسین کوکہابھارت نےایٹمی دھماکےکرلیے، مشاہدحسین نےکہاایٹمی دھماکےکرنےمیں ایک پل بھی ضائع نہ کریں، اس وقت کےآرمی چیف کوہدایت کی فوری ایٹمی دھماکوں کی تیاری کریں۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ  ایٹمی دھماکےنہ کرنےکے لیے عالمی رہنماؤں کےٹیلی فون بھی آئے، میں نےوہی کیاپاکستان کےوقار کیلئے کوئی سودے بازی نہیں کی، آئین کا احترام خود فوج کے وقار اور تقدس کیلئے بھی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ  جب آمر آتے ہیں تو فوج کی آبروپر بھی آنچ آتی ہے، قومی سطح پراورعالمی سطح پربھی فوج کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، اس صورتحال پرمشرف پرمقدمہ چلاناضروری سمجھاگیا، من گھڑت الزامات کی وجہ سرجھکاکرنوکری کرنےسےانکار ہے، من گھڑت مقدمےکامقصدمشرف کامقدمہ نہ چلانےسےانکارہے، مجھےہٹانااورنااہل کرناواحدحل سمجھاگیا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھےنہیں معلوم پاناماپیپرزکی بنیادپرکتنےلوگوں کوسزائیں دی گئیں، محض میرے خلاف اقدام کیے گئے، جس کا پاناما میں نام تک نہ تھا۔  سبق سکھانے کے لیے قیدکیا گیا،کال کوٹھریوں میں ڈالاگیا، خطرناک مجرم کی طرح ہتھکڑی لگاکرجہازکی سیٹ سےباندھ دیاگیا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ  ساری پابندی توڑکروطن واپس آیا توایک مرتبہ پھرجلاوطن کیاگیا،  کیاآج سے19سال پہلےیہ سب کچھ پاناماپیپرزکی وجہ سےکیاجارہاتھا، 19 سال پہلےبھی ان سب کی وجہ وہی تھی جوآج ہے،  میرا مطالبہ تھاداخلی اورخارجہ پالیسی کی ڈورحکومت کےپاس ہونی چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھےسسلین مافیاکہیں یاگاڈفادر،وطن دشمن کہیں یاغدار، پاکستان کابیٹاہوں،اس دھرتی کی مٹی اپنی جان سےبھی پیاری ہے، کسی سےحب الوطنی کاسرٹیفکیٹ مانگنا،حب الوطنی کی توہین سمجھتاہوں۔ اپنےملک کے لیے جوکچھ کیااسے اپنےلیےاللہ کی ہدایت سمجھ کرکیا۔

انھوں نے کہا کہ بوری بندلاشوں،بھتوں ،ہڑتالوں والےکراچی کوروشنیوں کاشہربنایا، سی پیک اورامن ہماری کارکردگی کامنہ بولتاثبوت ہے،  کئی سال بعداس ملک میں مردم شماری ہوئی، فاٹاکوقومی دھارےمیں لانےکے لیے ریفارمزکیں، نوجوانوں کوروزگاردیا،بجلی کی پیداوارمیں اضافہ کیا، خارجہ پالیسی کونئےخطوط پراستوارکرنے کیلئے اقدامات کیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کوعالمی سطح پراجاگرکیا، افغانستان میں امن عمل کے لیے اقدامات کیے،عالمی رہنماؤں کو متحد کیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دانشوروں اورمؤرخین نےدیکھناہے28جولائی کےفیصلےنےملک کوکیادیا، عدالتی فیصلےنےجمہوری عمل،حکومتی اقدامات کوکس قدرنقصان پہنچایا، عدالتی فیصلےنےمعاشی صورتحال کوکس قدرنقصان پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا اس کو کسی نے نہیں دیکھا ہوگا، عدالت کےفیصلےسےآگےبڑھتے ہوئے پاکستان کوزنجیریں ڈال دی گئیں، بلوچستان میں منتخب جمہوری حکومت کاتختہ الٹاگیا۔

نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کےمنظورکردہ قانون کوختم کرکےپارٹی قیادت سےمحروم کیاگیا، سینیٹ میں ہمارےامیدواروں کوشیر کے نشان سےمحروم کیاگیا، کیااس قسم کےمعاملات سےپاکستان کی ترقی ہوگی۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرےخلاف کیسزچل رہےہیں۔ 70سےزائدپیشیاں بھگت چکاہوں، گواہوں نےعملاًمیرےمؤقف کی تصدیق کی، پاکستان میں پاناماکے نام پرنوازشریف کےساتھ سب کچھ ہوا، اس قسم کی جےآئی ٹی کیاکبھی پہلےواٹس ایپ کال ہوئی؟ اس قسم کےریفرنس میں کبھی عدالتی نمائندہ بیٹھا؟۔

انھوں نے مزید کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتحال کوہوادی گئی، فیصلے سے عدلیہ اور نظام قانون کو کیا ملا؟ جس پٹیشن کو2بارناکارہ اورفضول قرار دیا گیا اسے کیسے معتبر کردیا گیا ؟۔

نواز شریف نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی کےلیےواٹس ایپ کال،مخصوص افرادکاتقررنہیں کیاگیا ؟ کیاماضی میں سپریم کورٹ کےکسی جج نےجے آئی ٹی کی نگرانی کی، جو جج میرےخلاف فیصلہ دے چکا اسےہی نگران جج بنا دیا گیا۔

قائد مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ مائنس ون کااصول طےپاجائےتواقامےجیسا بہانہ کافی ہوتاہے، میراگناہ صرف یہ ہےکہ پاکستان کی بھاری اکثریت مجھےچاہتی ہے، آئین کےتحت حاکمیت رہنی چاہیے میں بھی اسی راستےکاسپاہی ہوں، عوام پراپنی مرضی مسلط نہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ ناانصافی ہرکسی کونظرآرہی ہے، مجھےمقدمات میں کیوں الجھایاگیابہت کچھ کہہ سکتاہوں، آئین مجھےمزیدگفتگوکی اجازت نہیں دےرہا، کہنےکوبہت کچھ ہے، نوازشریف کوکبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنےدی گئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ سب ہیں میرےاصل جرائم کاخلاصہ جوتاریخ میں ملتےہیں، کاش آپ بی بی شہیدکی روح کو بلاکر پوچھتےآپ کوکیوں شہید کیا گیا، کاش آپ ذوالفقار بھٹو کی روح کو بلا کر پوچھے کیوں پھانسی چڑھایا گیا، کاش آپ لیاقت علی خان کی روح کو بلاسکتے، کاش آپ حکمرانوں کو بلاکر پوچھتے مدت کیوں پوری نہیں کرنے دی گئی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حب الوطنی کا تقاضا سمجھتا ہوں، اسی لیےداستان عدالت میں بیان کی، ایک بھی کمپنی کاتعلق مجھ سےنہیں نکلا،کیسزکاآپ کواندازہ ہوگیاہوگا، میں نےاپنامقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کردیاہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں