The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کرائسٹ چرچ، سوشل میڈیا پر ویڈیو نشر کرنے پر سربراہان سے جواب طلب

واشنگٹن: سانحہ نیوزی لینڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا سوشل میڈیا ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر اور مائیکروسافٹ کے سربراہان کو مہنگا پڑ گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی داخلی سلامتی کمیٹی نے نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملے کو براہ راست نشر کرنے اور ویڈیوز سماجی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے جانے پر سوشل میڈیا کے سربراہوں سے وضاحت طلب کرلی۔

امریکا کی داخلی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین بینی تھامسن کی جانب سے فیس بک، ٹویٹر اور مائیکرو سافٹ کے سربراہان کو لکھے خط میں ایسی ویڈیوز کو روکنے کے لیے انتظامات اور اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق سوشل میڈیا کے مالکان اور ذمہ دار سماجی ویب سائٹس سے ایسا مواد ہٹانے اور مستقبل میں ایسی ویڈیوز شیئر نہ کیے جانے کو یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں: سفید فام قوم پرستی پوری دنیا کا مسئلہ ہے: نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا تاریخی بیان

واضح رہے کہ چند روز قبل آسٹریلوی دہشت گرد کی جانب سے نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 50 نمازی شہید ہوگئے تھے جن میں 9 پاکستانی شامل تھے جبکہ ایک پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک ہے۔

یاد رہے کہ آج دو پاکستانی شہریوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے اور ان کو نیوزی لینڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دہشت گرد کو نیوزی لینڈ کی پولیس نے دو مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد تیسرے ہدف کی جانب بڑھنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا تھا، اس پر چند روز میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں