The news is by your side.

کیا ملک میں واقعی غذائی قلت کا خدشہ ہے؟ این ایف آر سی سی نے تفصیلات جاری کردیں

اسلام آباد: نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ ملک میں خوراک اور غذائی اجناس کا وافر ذخیرہ موجود ہے، ملک میں غذائی ذخیرے کے ساتھ ساتھ درآمد بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ ملک میں اشیائے خور و نوش کی کوئی کمی نہیں، آئندہ 6 ماہ کے لیے گندم کا بڑا ذخیرہ دستیاب ہے، گندم کی اگلی کٹائی کے موسم تک موجودہ ذخائر کافی ہیں۔

این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ گندم کے ذخائر 2 ملین ٹن تک موجود ہیں، گندم کی 1.8 ملین ٹن کی درآمد بھی جاری ہے، پبلک سیکٹر سے 46 ہزار ٹن گندم روزانہ کی بنیاد پر جاری کی جا رہی ہے۔

کوآرڈینیشن سینٹر کے مطابق گزشتہ سال ٹماٹر کی بمپر فصل کاشت کی گئی تھی، ٹماٹر کی پیداوار ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، آلو کی ملکی 4.2 ملین ٹن کی ضرورت کے برعکس 7.5 ملین ٹن آلو کی پیداوار ہوئی۔

این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ ضروریات کے لیے ایران اور افغانستان سے پیاز اور آلو کی درآمد جاری ہے، آلو اور پیاز کی درآمد پر حکومت نے تمام ڈیوٹیز ختم کر رکھی ہیں، ملک میں پیاز اور ٹماٹرکی کل ضرورت بالترتیب 1.5 لاکھ ٹن اور 50 ہزار ہے، درآمدی 55 ہزار ٹن سے زائد ٹماٹر اور 6 ہزار ٹن پیاز پہنچ چکے ہیں۔

این ایف آر سی سی کے مطابق ملک میں دال مسور اور دال ماش کی ضرورت 1.5 لاکھ ٹن ہے، کینیڈا، آسٹریلیا اور میانمار سے دالیں درآمد کی جارہی ہیں، دال مونگ پہلے ہی ملک میں سرپلس مقدار میں موجود ہے۔

ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دال چنا کی ضروریات 8 لاکھ ٹن ہے، دسمبر تک کے لیے چاول ضرورت کے مطابق دستیاب ہیں، ملک میں کھپت کے 3.8 ملین ٹن کے مقابلے میں 9.7 ملین ٹن چاول پیدا کرتا ہے، ملک میں خوراک اور غذائی اجناس کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں