The news is by your side.

Advertisement

ناک: اردو محاوروں سے لے کر طبی پیچدگیوں تک!

آپ نے ‘‘ناک’’ سے متعلق مختلف محاورے سنے ہی ہوں گے۔ ناک بھوں چڑھانا، ناک کٹوا دی، ناک میں دم کر دینا وغیرہ وغیرہ۔ اردو زبان و ادب میں ‘‘ناک’’ پر کچھ لکھا جائے یا ادیب و شاعر اسے خاطر ہی میں‌ نہ لائیں، مگر طبی دنیا اسے کسی صورت نظرانداز نہیں‌ کرسکتی. جب بھی انسانی صحت اور علاج معالجے کی بات ہو گی طبی محققین، سائنس داں اور ماہر معالجین ناک کو ضرور موضوعَ بحث بنائیں‌ گے. ہماری جسمانی صحت اور نظامِ تنفس میں یہ عضو مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

ناک ایک حسّاس عضو ہے، جو ہمارے چہرے پر نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نظامِ تنفس کا حصّہ ہے جس کے ذریعے تازہ ہوا ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ اسی کی بدولت ہم سونگھ کر ماحول یا اشیا کو جانتے اور سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی خوش بُو، بد بُو کی پہچان اور فضا میں کثافتوں کا اندازہ کرنے کے ساتھ ماحول کی مختلف حالتوں کا سونگھ کر ادراک کرنا اسی عضو کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔

ناک کی اندرونی دیواریں نرم، نم اور نہایت حساس ہوتی ہیں، جب کہ اس کے اندر موجود بال سانس لینے کے عمل میں داخل ہو جانے والی گرد اور دیگر باریک ذرات کو جسم کے اندر جانے سے روکنے کا کام کرتے ہیں۔

انسانی ناک کے اندر نہایت باریک رگیں موجود ہیں، جن میں خون کی گردش جاری رہتی ہے۔ ہماری ناک عموماً نزلہ، زکام، چھینکوں کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ نزلے کی وجہ سے اکثر ناک بند ہو جاتی ہے اور ہمیں سونگھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا یہ کہہ لیں کہ انسان کسی قسم کی بُو محسوس نہیں کر پاتا۔

بعض لوگوں کا جسمانی نظام جراثیم، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور استعمال کی مختلف اشیا کو کسی وجہ سے قبول نہیں کرتا اور ایسا ہونے کی صورت میں ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اسے ہم الرجی یا جسم کی حساسیت کہتے ہیں۔ ایسی کسی بھی الرجی کی وجہ سے زیادہ تر ہماری جلد متأثر ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ ناک اور پھیپھڑوں کے لیے بھی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔

آپ نے غور کیا ہو گا کہ اکثر لوگ معمولی دھواں یا گرد و غبار بھی برداشت نہیں کر پاتے اور فوراً چھینکنے لگتے ہیں۔ بعض افراد کی ناک گردوغبار کے علاوہ بعض سبزیوں یا پھلوں، پھولوں کو سونگھنے، مشروبات کی خوش بُو یا کھانوں کی مہک کی وجہ سے، مختلف اقسام کے پاؤڈر، کیمیکل، پالتو پرندوں اور جانوروں کے بالوں، پَروں کی وجہ سے بھی متأثر ہوسکتی ہے۔ اکثر ایسے افراد کو ناک کی سوزش کا مسئلہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی حساسیت ہوتی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ الرجی اگر شدت اختیار کر جائے تو کئی طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں