The news is by your side.

Advertisement

ملک کوقرض کی دلدل میں کس کس نےدھکیلا؟ وزیراعظم آج تحقیقاتی کمیشن کااعلان کریں گے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان آج 10 سال میں قرضہ 24 ہزار ارب تک پہنچانےکی تحقیقات کے لئے  اعلیٰ سطحیٰ کمیشن کااعلان کریں گے، انکوائری کمیشن کے سربراہ کا نام طے کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزاعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ختم ہوگیا ، اجلاس میں اجلاس میں بجٹ کوپاس کرانےسےمتعلق حکمت علی طے کی گئی اور اپوزیشن کے احتجاج پرلائحہ عمل کے لیے مشاورت کی گئی جبکہ ملکی سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ملک کو قرض کی دلدل میں کس کس نےدھکیلا؟ وزیراعظم عمران خان آج تحقیقاتی کمیشن کااعلان کریں گے، کس نے کتنے پیسے اڑائے، سب پتہ چل جائےگا۔

علی زیدی کا کہنا تھا پاکستان سے قرض لے کر پیسہ کس نے غائب کیا پتہ چلےگا، کمیشن کا سربراہ کون ہوگا، وزیراعظم خود بتائیں گے۔

ڈالر کی قیمت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا معلوم کر لیا، ڈالرکی ذخیرہ اندوزی میں کون ملوث ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیسے ہو رہا ہے؟ وزیراعظم کو بتا دیاگیا۔

ان کا مزید کہنا تھا عوام 30جون تک اپنےبےنامی اثاثےظاہرکردیں، 30 جون کے بعد کسی کو رعایت نہیں ملے گی، ہمارے پاس سارا ریکارڈ آچکا ہے۔

علی زیدی نے کہا ہمارااپوزیشن کےخلاف جارحانہ ردعمل ہوگا، ریلو کٹے حکومت کیخلاف محاذ بنا رہے ہیں کامیاب نہیں ہوں گے، وزیراعظم کو تقریر نہ کرنے دینے والے آج بول کر دکھائیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نے حکومتی ارکان کو بتایا کہ انکوائری کمیشن کے سربراہ کا نام طے کرلیا گیا ہے ، آج شام یاکل تک کمیشن ممبران اور سربراہ کا اعلان کر دیا جائےگا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کے سربراہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

مزید  پڑھیں:  دس سال میں قرضہ 24 ہزار ارب تک کیسے پہنچا؟ وزیر اعظم کا اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان

یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا 10 سال میں قرضہ 24 ہزار ارب  تک پہنچنے کی تحقیقات کے لئے اپنی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا ہائی پاورڈ کمیشن میں آئی ایس آئی، ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر اور ایس ای سی پی شامل ہوں گے۔

بعد ازاں وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ انکوائری کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے گا، کمیشن میں ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آفس اور ایف آئی اے کے حکام بھی شامل ہوں گے، یہ کمیشن 10 سالوں میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کرے گا، 2008 سے 2018 تک 24 ہزار ارب کے قرضے کی تحقیقات ہوں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کمیشن مختلف وزراتوں میں استعمال کی گئی رقم کی تحقیقات کرے گا، کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا، غیر ملکی سفر اور بیرون ملک علاج پر آنے والے اخراجات کی بھی تحقیقات ہوں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں