site
stats
اہم ترین

فیض آباد دھرنا:عدالت میں سیکورٹی اداروں کی رپورٹس غیرتسلی بخش قرار

Elections Act 2017

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سیکورٹی اداروں کی رپورٹس کوغیرتسلی بخش قرار دے دیا ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیض آباد دھرنے کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت جسٹس مشیرعالم اور جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پرمشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے پولیس اور حساس اداروں کی سربمہر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے آغاز پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ فیض آباد آپریشن میں کتنی اموات ہوئیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہلاکت کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، 173 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ رپورٹ دی جائے بتایا جائے کیا ہوا؟ جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نقصان سے متعلق معلومات پنجاب حکومت دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی غیردستخط شدہ رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کے مطابق 146 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ٹی وی پر6 افراد کی ہلاکت کی خبریں چل رہی ہیں جبکہ دھرنے میں اموات کی تفصیلات بتانے کوکوئی تیارنہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ راولپنڈی میں اموات ہوئی ہیں، پنجاب حکومت سے رپورٹ نہیں مانگی گئی تھی، جس پرعدالت نے کہا صرف اسلام آباد نہیں مجموعی صورت حال پررپورٹ مانگی تھی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا، یہ عوام کا پیسا ہے کون بتائے گا یہ نقصان کون پورا کرے گا؟ اسلام کے نام پرسرکاری اور نجی املاک کے نقصان کی اجازت کہاں ہے؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، کیا یہاں اسلام پربات نہیں ہوسکتی؟ پاکستان اسلامی نظریے پر ہی چلے گا۔

جسٹس مشیرعالم نے سوال کیا کہ مظاہرین کے پاس آنسوگیس کےشیل کہاں سےآئے؟ اسلام آباد میں اتنا اسلحہ کیسے آیا کسی نہ کسی کوتوبتانا ہوگا، دھماکہ خیزمواد اوراسلحہ کے کتنےمقدمات درج ہوئے؟۔

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت7 مقدمات درج ہوئے۔

عدالت نے کہا کہ سب اپنے ایجنڈے پرچل رہے ہیں ملک کا کوئی نہیں سوچتا، فوج اورحکومت کوبدنام نہ کیا جائے، فوج اورحکومت کوبدنام کرنے والے ملک کی خدمت نہیں کررہے۔

خیال رہے کہ سماعت کےآغاز سے قبل جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں پولیس نے آپریشن کی ناکامی کا اعتراف کیا۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے سیکورٹی اہلکاروں کے مذہبی جذبات کو ابھارا اورسیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کے لیے نرم گوشہ رکھا گیا۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ سیکورٹی اہلکار مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں تھے۔


حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا


یاد رہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر فیض آباد انٹرچینج پر تحریک لبیک کی جانب سے 22 روز تک دھرنا دیا گیا تھا۔

فیض آباد دھرنے کے مظاہرین کے مطالبے پر وزیرقانون زاہد حامد کے استعفےاور حکومت سے معاہدے کے فیض آباد دھرنا ختم ہوگیا تھا تاہم لاہور میں اب بھی دھرنا جاری ہے۔


فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت پیرتک ملتوی


واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 کو نومبر کو فیض آباد دھرنے پر2 کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top