site
stats
اے آر وائی خصوصی

ربیع الاول‘ بہارآئی ہے توحید تیرے کعبے میں

Rabi ul Awal

ربیع الاول اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے ویسے تو میلاد النبی ﷺ اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن خاص ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبی ﷺکا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔

یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اوردیگرمقامات پرمیلاد النبیﷺ اورنعت خوانی اور مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن میں علمائےکرام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پرروشنی ڈالتے ہیں، اسی طرح مختلف شعراء اورثناء خواںِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اوردرودوسلام پیش کرتے ہیں۔


ربیع الاول کا چاند نظرآگیا، عید میلادالنبی 12 دسمبر کو ہوگی


 12-post-1

ربیع الاول کی 12کو کئی اسلامی ممالک میں سرکاری طورپرعام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلادالنبی ﷺاور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔

12-post-6

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بروز پیر 571 عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئے‘ تاریخ پیدائش میں مورخین کے اختلاف ہے بعض 9 اور 12ربیع لاول بتاتے ہیں اور بعض کے نزدیک 17 ربیع الاول ہے لیکن امت کااجماع 12ربیع الاول پرہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شبِ میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شبِ قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب ِقرآن آیا وہ کیونکر شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟۔

12-post-4

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں بہت بری حالت میں دیکھا اورپوچھا مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔

سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ’’جس سال نور ِمصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت‘ ترو تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی‘ سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے‘‘ ۔ مسلمان اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے‘ مٹھائی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔

12-post-2

عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر شمعِ رسالت ﷺکے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، ’’میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے‘‘۔ (مشکوہ)۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پرتکمیلِ آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ولی الدین ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو یومِ عید مناتے۔ اس پرآپ نے فرمایا، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اورعیدِعرفہ (ترمذی) لہذا قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالٰی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔

چونکہ عید الفطر اورعید الاضحی حضورﷺہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم ِولادت بدرجہ اولیٰ عید قرار پایا ہے اور امت کے لیے خوشی اور راحت کا سبب ہے۔





Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top