The news is by your side.

Advertisement

اسکول بیگ کا وزن کتنا ہونا چاہیے؟ بل پیش

پشاور: خیبر پختون خوا کی اسمبلی میں آج ایک ایسا بل پیش کیا گیا ہے جس کا تعلق بچوں کے اسکول بیگ کے وزن سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے پی اسمبلی میں اسکول بیگز لمی ٹیشن آف ویٹ بل 2020 ایوان میں پیش کر دیا گیا، یہ بل آج اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں پیش کیا گیا۔

خیبر پختون خوا میں اسکول بیگ کا وزن مقرر کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع ہو گیا ہے، اس سلسلے میں جو بل پیش کیا گیا ہے اسے ’اسکول بیگز لمی ٹیشن آف ویٹ بل 2020‘ کا نام دیا گیا ہے، یہ بل صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے ایوان میں پیش کیا۔

مذکورہ ایکٹ کے تحت ہر کلاس کے لیے بیگ کے الگ الگ وزن کا تعین کیا گیا ہے، مجوزہ بل کے مطابق جماعت اوۤل کے بچوں کے لیے بیگ کا وزن 2.4 کلوگرام ہوگا۔

بل کے مطابق جماعت دوئم کے لیے بیگ کا زیادہ سے زیادہ وزن 2.6 کلوگرام اور تیسری جماعت کے لیے 3 کلوگرام وزن مقرر کیا گیا ہے، جب کہ ہائی سیکنڈری کے طلبہ کے لیے بیگ کا وزن 7 کلوگرام تک ہوگا۔

بچوں کے بھاری اسکول بیگ سے متعلق قانون سازی کی جائے، پشاور ہائی کورٹ کا حکم

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے اسکول بیگ کا وزن مقررہ مقدار سے زائد ہوگا تو سرکاری اسکول پرنسپلز کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، جب کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو 2 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں اس سلسلے میں ایک درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے کے پی حکومت کو قانون سازی کا حکم دیا تھا اور 4 ماہ کی مہلت دی تھی، جسٹس قیصر رشید نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے تھے کہ بھاری بستوں سے بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

مارچ 2018 میں اس حوالے سے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کلینکل عباسی شہید اسپتال کراچی نے تمام اسکول پرنسپلز کو ایک خط میں کہا تھا کہ بھاری بیگ اٹھانے والے بچے مختلف تکالیف کا شکار ہوتے ہیں، انھیں گردن، ریڑھ کی ہڈی اور کندھے میں درد کی شکایات ہو سکتی ہیں، روزانہ کئی بچوں کو ان ہی تکالیف کے باعث اسپتال لایا جاتا ہے، اس لیے بیگ کا وزن مناسب رکھا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں