The news is by your side.

Advertisement

تھر: بھوک پیاس کے مارے ہرنوں کا شکار، گوشت فروخت کیے جانے کا انکشاف

تھرپارکر: سندھ کے ایک تعلقے ڈاہلی میں نایاب ہرنوں کو ذبح کر کے اس کا گوشت فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے، تھر میں بھوک پیاس کے مارے ہرن شکاریوں کا آسان ہدف بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق ذرایع کا کہنا ہے کہ تھر کے تعلقے ڈاہلی میں نایاب ہرنوں کا گوشت فروخت کیا جا رہا ہے، ایک جانب تھر میں غذا کے ذرایع کی کمی کے باعث جانور مر رہے ہیں، دوسری جانب مصیبت زدہ ہرنوں کو شکار کیا جانے لگا ہے۔

تھرپارکر کے علاقے کرانگڑی کے شکاریوں کی ہرن ذبح کرنے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ سرحدی دیہات میں ہرن ذبح کر کے شہروں میں گوشت مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، دوسری طرف افسوس ناک امر یہ ہے کہ وائلڈ لائف افسر اشفاق میمن نے اعتراف کیا ہے کہ نشان دہی ہونے اور ٹھوس ثبوت کے باوجود کارروائی نہیں کر سکتے۔

نمایندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق نایاب ہرن کا گوشت کراچی، حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے امیر لوگ خریدتے ہیں جو ہرن کا گوشت کھانے کے شوقین ہیں۔ چند دن قبل تھرپارکر میں ہرن کا گوشت فروخت کرنے والے چند لوگوں کو پکڑا گیا تھا لیکن محکمہ وائلڈ لائف نے چند پیسوں کے عوض انھیں چھوڑ دیا۔

تازہ خبریں پڑھیں: امریکی ساحل وہیل کے لیے قتل گاہ بن گئے

وائرل ہونے والی ایک اور ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ تھر میں ایک نایاب ہرن کو گولی مار کر گرایا گیا۔

اشفاق میمن نے یہ بھی بتایا کہ نایاب ہرنوں کے شکار کی خبریں زیادہ تر عمر کوٹ کے سرحدی علاقوں کی ہیں۔

واضح رہے کہ تھر کی خوب صورتی میں اضافہ کرنے والے نایاب ہرن ہزاروں کی تعداد میں پائے جاتے تھے لیکن اب یہ بہت کم تعداد میں نظر آنے لگے ہیں، جس کی وجہ عمر کوٹ کے صحرائے تھر سے لگنی والی بھارتی سرحد کی نزدیکی گوٹھوں میں اس کا بے دریغ شکار ہے جس پر محکمہ وائلڈ لائف نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں