site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

کمسن تخلیق کاروں کی 5 دنیا بدل دینے والی ایجادات

دنیا سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ خلا کی تسخیر سے لے کر انسانی زندگی بچانے تک مختلف ایجادات کی جارہی ہیں جن میں ایسی ایجادات بھی شامل ہیں جو روز مرہ کے معمولات کو کم سے کم وقت میں انجام دینے میں مدد دے سکیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سائنس کی تعلیم کو اولین ترجیح دینے سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اب ہر عمر کا شخص اپنی ذہانت کے مطابق سائنس کو اپنے اور اپنے ارد گرد کے افراد کے لیے فائدہ مند بنانے کے متعلق سوچتا ہے۔

مزید پڑھیں: زندگی بدل دینے والی 17 حیران کن ایجادات

آج ہم آپ کو 5 ایسے نوجوان سائنسدانوں کی ایجادات کے بارے میں بتارہے ہیں جو انہوں نے اپنے روز مرہ کے معمول اور ارد گرد کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کی اور اس میں خاصے کامیاب رہے۔


جراثیم سے پاک ہینڈل

بعض صفائی پسند افراد دروازوں کے ہینڈل کو کسی کپڑے کی مدد سے پکڑتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس طرح وہ ہینڈل پر لگے جراثیموں سے محفوظ رہتے ہیں۔

یہ بات سائنسی تحقیق سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ دروازوں کے ہینڈل بھانت بھانت کے لوگوں کے استعمال کے باعث نہایت جراثیم آلود ہوتے ہیں اور بے شمار بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسی مسئلے کے حل کے لیے ہانگ کانگ کے 18 سالہ کنگ پو نے ایسا ہینڈل بنایا ہے جو خود اپنے اوپر سے جراثیم کو ختم کرسکتا ہے۔

ایل ای ڈی لائٹ اور ٹائٹینیم آکسائیڈ کے ذریعے کام کرنے والا یہ ہینڈل 99 فیصد جراثیم کو مار ڈالتا ہے۔


سائیکل جیسی واشنگ مشین

بھارت کے کئی پسماندہ علاقوں میں آج بھی خواتین کپڑوں کا ڈھیر کمر پر لاد کر قریبی دریا پر لے جا کر دھوتی ہیں۔ اس کام کو آسان بنانے کے لیے بھارت کی ایک 14 سالہ طالبہ نے حیرت انگیز ایجاد کرڈالی۔

بھارت کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی رمیا اپنی والدہ کے ساتھ قریبی دریا پر کپڑے دھونے جاتی تھی۔ ایک بار والدہ کے بیمار ہونے پر اسے اکیلے بھی یہ کام کرنا پڑا۔

تب ہی اسے خیال آیا کہ کیوں نہ وہ کوئی ایسی شے بنائے جس سے اسے اور اس کی ماں کو اس مشقت سے نجات مل جائے، اور تب ہی اسے سائیکل جیسی واشنگ مشین بنانے کا خیال آیا۔

پرانی بائیسکل کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی جانے والی یہ مشین بجلی کے استعمال سے بھی آزاد ہے اور ان مقامات پر بھی استعمال کی جاسکتی ہے جہاں بجلی نہیں ہے۔


زراعت بڑھانے کا طریقہ

شمالی اوقیانوس میں واقع جزیرہ آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ 3 بہنوں نے ایسا طریقہ کار وضع کر ڈالا جس سے بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے والی فصلوں جیسے گندم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مختلف پھلیوں کی فصل میں پائے جانے والے ایک بیکٹریا کی گندم کی فصلوں میں آمیزش کی جس کے بعد اس فصل کی مقدار میں دوگنا اضافہ ہوگیا۔

یاد رہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ زرعی رقبہ ناکافی ہے اور جیسے جیسے دنیاکی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے زراعت میں اضافہ کی بھی ضرورت ہے۔


نابیناؤں کا ساتھی

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک 12 سالہ بھارتی نژاد طالب علم شبھم بنرجی نے لیگو کے کھلونوں کے ٹکڑوں کی مدد سے ایسا آلہ تیار کیا ہے جو جزوی طور پر نابینا افراد کو بہتر طور پر دیکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ طالبعلم ابھی صرف ہائی اسکول میں ہے لیکن وہ اپنی ایجاد سے متعلق اپنی ذاتی کمپنی بھی قائم کرچکا ہے۔


پانی کو صاف کرنے اور توانائی پیدا کرنے والا آلہ

آسٹریلیا کی 17 سالہ سنتھیا سن نے ایچ 2 پرو نامی ایک ایسا آلہ بنایا ہے جو بیک وقت پانی کو صاف کرسکتا ہے اور ماحول دوست بجلی بھی پیدا کرسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top