The news is by your side.

Advertisement

ایک خط سے جھلکتی فراق گورکھ پوری کی انکساری اور عاجزی

اردو ادب میں‌ مرزا غالب کے خطوط تو بہت مشہور ہیں، مگر ہندوستان کے دیگر مشہور و معروف تخلیق کاروں‌ کے خطوط بھی اپنے متن اور اسلوب کی وجہ سے نہایت اہم اور علمی و ادبی سرمایہ ہیں۔

ہم یہاں‌ معروف ادیب، خاکہ نگار اور ’نقوش‘ کے مدیر محمد طفیل کے نام مشہور شاعر اور نقاد فراق گورکھ پوری کا ایک خط پیش کر رہے ہیں۔

اس خط میں‌ جہاں‌ آپ ایک ہم عصر سے دوستانہ تعلق، شائستہ اور پُرلطف طرزِ تخاطب کا رنگ دیکھیں‌ گے، وہیں فراق کی انکساری اور عاجزی بھی قابلِ توجہ ہے۔

محمد طفیل،
4/8 بینک روڈ، الٰہ آباد
12جون 1954

برادرم تسلیم

آپ نے یہ خط بڑے دنوں کے بعد لکھا اور عذر یہ کیا کہ مصروف رہا۔ مصروف کون نہیں ہوتا، مصروف تو وہ بھی ہوتا ہے جسے دنیا کا کوئی کام نہیں ہوتا۔

میں نے جو آپ کے خطوں کے جواب میں اتنے اتنے لمبے خط لکھے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بالکل ہی بیکار تھا۔

پہلے تو آپ کا خیال یہ تھا کہ میرے جوابات کی روشنی میں مجھ پر لکھیں گے۔ اب آپ کا یہ کہنا ہے کہ اگر اجازت ہو تو ان خطوط کو ہوبہو چھاپ دوں۔ میری طرف سے تو ان کی اشاعت کی اجازت ہے، اس دریافت کا بھی شکریہ کہ ان خطوں میں تاریخی مواد ہے اور انھیں حرف بہ حرف چھپنا چاہیے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ دو ایک بار آپ نے لکھا تھا کہ میں نے بعض جگہوں پر بڑی رواداری میں لکھا ہے، بس ان با توں کا خیال رکھ لیجیے، لیکن یہ مت کیجیے گا کہ آپ مجھے انسان بھی نہ بننے دیں۔ میری کم زوریوں کا بھی اظہار ہونا ہی چاہیے۔

اگر مجھے پہلے علم ہوتا کہ آپ میرے ہی خط چھاپیں گے، تو میں صرف اپنی کم زوریاں ہی کم زوریاں بیان کرتا۔ اس لیے کہ لوگ صرف اپنی خوبیاں ہی خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ اگر آپ انڈیا آ رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو گی، لیکن الٰہ آباد کا نام انڈیا نہیں ہے، اور یہ آپ نے لکھا نہیں کہ الٰہ آباد بھی آؤں گا۔ مجھے اپنے پروگرام سے مطلع کیجیے گا۔

آپ کا
فراق

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں