The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا کینو انڈونیشیا کیوں نہیں جا سکا؟

کراچی: انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان سے کینو کی درآمد کے لیے کوٹہ جاری نہ ہو سکا جس سے پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ کا ہدف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان فروٹ ا ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کو ہنگامی مراسلہ بھیجتے ہوئے کینو کے کوٹے کا معاملہ انڈونیشیا کے ساتھ حکومتی سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے کوٹہ جاری نہیں ہوا جس کی وجہ سے انڈونیشیا کو کینو کی ایکسپورٹ تاحال شروع نہیں ہو سکی ہے، انڈونیشیا سے کوٹہ اجرا میں تاخیر کا معاملہ حکومتی سطح پر اٹھایا جائے۔

پاکستان فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست وحید احمد کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا دیگر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے لیے بھی ہر سال جنوری میں کینو کی درآمد کا کوٹہ جاری کرتا ہے تاہم رواں سیزن جنوری کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود کوٹے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا سے ترجیحی تجارت کے معاہدے کے باوجود پاکستانی کینو پر کوٹہ عائد ہے، پاکستان کے لیے کوٹے کی پابندی کو ختم کرایا جائے، انڈونیشیا پاکستانی کینو کی اچھی مارکیٹ ہے اگر کوٹے کی شرط نہ رکھی جائے تو پاکستان سے انڈونیشیا کو کینو کی ایکسپورٹ دگنی کی جا سکتی ہے، پاکستان انڈونیشیا سے ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت سالانہ 2 ارب ڈالر سے زائد کا پام آئل درآمد کرتا ہے اس کے مقابلے میں پاکستان سے انڈونیشیا کو کینو کی ایکسپورٹ چند ملین ڈالر تک محدود ہے اس کے باوجود پاکستان کو انڈونیشیا کے کوٹے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ سیزن 1700 کنٹینر کینو انڈونیشیا کو ایکسپورٹ کیے گئے تھے، اگر کوٹے کی شرط نہ ہو تو پاکستان دسمبر سے ہی انڈونیشیا کو ایکسپورٹ شروع کر سکتا ہے جو اپریل تک جاری رہے گی اور ایکسپورٹ کا حجم 1700 کنٹینرز سے بڑھ کر 3400 کنٹینرز تک پہنچ سکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں