The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن میں سابق الیکشن کمشنر پنجاب پر جرح

اسلام آباد: سپریم کورٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں آج سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور پر جرح کی گئی۔

جوڈیشل کمیشن میں سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور پر تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے جرح کی، عبدالحفیظ پیرزادہ نے محبوب انور سے پوچھا کہ وہ کس کے ماتحت تھے، جس پر انکا کہنا تھا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت اور ان ہی کی ہدایت پرعمل کرتے تھے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ آفیسرز کی تجویز تھی کہ بیلٹ پیپرز سو فیصد پرنٹ کرائے جائیں اور کیا ایسے بھی حلقے تھے جہاں آر اوز نے سو فیصد سے زائد بیلٹ پیپرز چھپوانے کی استدعا کی۔

جس پر محبوب انور نے تصدیق کی کہ یہ درست ہے اسکا فیصلہ آراوز کی صوابدیدپر تھا، گواہ نےاین اے ایک سو چون میں بھی زائدبیلٹ پیپرچھپوانے کے سوال پر لاعلمی ظاہر کی، محبوب انور پر جرح کل بھی جاری رہیگی، کمیشن کل پھر سماعت کرے گا۔

گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سابق چیف سیکریٹری پنجاب جاوید اقبال اور سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری راؤ افتخار کے بیانات ریکارڈ  کئے گئے تھے، تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے جاوید اقبال اور راؤ افتخار سے جرح کی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کےاس سوال پر کہ کیا مئی دوہزار تیرہ کو اسوقت کے چیف سیکریٹری سےالیکشن کمیشن نے پرنٹنگ سے وابستہ دو سو افراد مانگےتھے۔ سابق چیف سیکریٹری پنجاب اور سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب نے اعتراف کیا کہ ان سے افراد مانگےگئے تھے، ن لیگ کے وکیل شاہد حامد نے جاوید اقبال سےجرح کی کہ پنجاب بیوروکریسی نے انتخابات میں کس طرح اثرانداز ہونیکی کوشش کی۔

جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ سوال نہ کریں، منظم دھاندلی کا ایشو کمیشن نے طے کرنا ہے، جاوید اقبال سے الیکشن کمیشن کے وکیل سلمان اکرم نے بھی جرح کی، جسکے بعد سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب راؤ افتخار سے جرح کی گئی۔

پی ٹی آئی نے بطور ثبوت کمرہ عدالت میں راؤ افتخار کا ٹی وی پروگرام نشر کروایا، دو گواہان پر جرح کے بعد کمیشن کی کارروائی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں