انقلاب اس سرزمین کا مقدر بن چکا ہے، طاہرالقادری -
The news is by your side.

Advertisement

انقلاب اس سرزمین کا مقدر بن چکا ہے، طاہرالقادری

اسلام آباد: ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ کروڑوں افراد کا سوچنے کا نظریہ بدل رہا ہے، قوم میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف بولنے کا حوصلہ آگیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ڈینگی ڈے ک واک میں سرکاری اسکول کے بچوں نے ’گونوازگو‘ کے نعرے لگائے، یہ حوصلہ دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی وجہ سے عام ہورہا ہے، اب حکمرانوں کو سوتے میں بھی یہی آوازیں آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اس سرزمین کا مقدر بن چکا ہے حکمرانوں کو گھر بھیج کر ہی گھرجائیں گے، گو نواز گو اب اس قوم کا ترانہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران اختیارات اور وسائل پر پنجے گاڑکر بیٹھے ہیں اوراپنے خاندان والوں کے علاوہ کسی کو اس اختیار تک رسائی نہیں دیتے جبکہ انقلاب کے بعد اقتدارواختیاراس ملک کے چھوٹے چھوٹے قصبوں تک پہنچےگا۔

انہوں نے نیوزی لینڈ، کروشیااورجاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کی جانے والی اصلاحات کا تذکرہ کیا کہ کس طرح مقامی حکومتوں کاجال بچھا کرترقی کا سفرکیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے حکومتی ڈھانچے کو بدلا جائے، پارلیمنٹ نے 65 سالوں میں اقتدار کی نچلی سطح پرمنتقل کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اسی لئے ہم انقلاب کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبے اور یونین کونسلیں ملک کی فوری ضرورت ہے اور انقلاب کے بعد دیہی علاقوں میں پانچ سو افراد پرمشتمل ایک یونٹ ہوگا، دس یونٹ مل کرایک رورل کونسل بنائیں گے، دس رورل کونسل مل کر رورل تحصیل کونسل بنائیں گے یعنی ہر پچاس ہزار افراد کے لئے ایک منتخب حکومت ہوگی جس کے ہردو سال بعد الیکشن ہونگے۔

شہری علاقوں میں ہزارافراد کا یونٹ ہوگا اور دس یونٹ مل کر وارڈ بنائیں گے اور دس وارڈ مل کر ایک اربن کونسل بنائیں گے یعنی ہر ایک لاکھ افراد کی اپنی حکومت ہوگی اور عوام کے مسائل کا حل محلوں میں ہوگا اور اسکے بھی ہر دو سال بعد الیکشن ہونگے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ہوائی باتیں نہیں بلکہ فرانس اور برطانیہ میں یہ خاکہ اعداد کے فرق سے کامیاب ہوچکا ہے، چھوٹے مسائل کے حل کے لئے علاقوں کی سطح پر انصاف کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں پانچ سے سات افراد کی جیوری ہوگی جو پڑھے لکھے اور نیک نام لوگوں پر مشتمل ہوگی یعنی معمولی نوعیت کے مسائل عدالت جائے بغیرحل ہوجائیں گے۔

انہوں نے ترکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی آبادی ساڑھے ساٹھ کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور وہاں اکیاسی صوبے ہیں تو ہمارے ہاں سارے وسائل چار لوگوں کے ہاتھ میں کیوں ہیں؟۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکمرانوں اور میری سوچ میں یہی فرق ہے، حکمران وہاں سے ٹھیکیدارلاتے ہیں جبکہ میں وہاں کا نظام لانا چاہتا ہوں۔

ڈاکٹرطاہرالقادری نے کہا کہ دنیا کہ حکمران عوام کے معیار کے مطابق زندگی گزارتے ہیں یہاں عوام بھوکے مر رہے ہیں اور حکمران مغل بادشاہوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں