انقلاب مارچ 50 فیصد کامیاب ہوگیا، طاہرالقادری -
The news is by your side.

Advertisement

انقلاب مارچ 50 فیصد کامیاب ہوگیا، طاہرالقادری

اسلام آباد : ڈاکٹرطاہرالقادری کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونے کا مطلب ہے کہ انقلاب مارچ پچاس فیصد کامیاب ہوگیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ اس تمام عرصے میں پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر میں اپوزیشن کے تمام لیڈران نے حکومت پر سخت ترین تنقید کی ہے کیونکہ وہ بھی جان چکے ہیں کہ حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن نے پمارے دھرنوں کی حمایت نہیں کی لیکن ہرلیڈرنے ہمارے مؤقف کی حمایت کی اور ہمارے مطالبات کو جائزقراردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو احتجاج میں بیٹھے یہ افراد چند ہزار لگتے ہیں لیکن یہ دھرنا دینے والے کروڑوں افراد کی آواز ہیں اور ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے ساؤتھ کوریا کے وزیر اعظم کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کشتی ڈوبنے سے تین سو افراد کی موت پر استعفیٰ دے سکتا ہے تو وزیراعظم نواز شریف کیوں نہیں دیتے، وہاں بھی چند ہزارافراد نے حکومت پرتنقید کی تھی۔

انہوں نے یوکرائن اورلیبیا کے سربراہانِ مملکت کے استعفوں کا ذکر بھی کیا کہ کس طرح ان ممالک کے سربراہان نے اخلاقی حمایت ختم ہونے پر استعفیٰ دیا، اسی طرح نواز شریف بھی استعفیٰ دیں۔

انہوں نے یوکرائن کے ہی ایک واقعے کا ذکر کیا کہ جہاں عوام نے ممبر پارلیمنٹ کو کچرے دان میں پھینک دیا اورساتھ ہی ساتھ حکمرانوں کو تنبیہہ کی کہ اگر وہ استعفیٰ نہیں دیں گے توعوام انہیں اٹھا کرپھینک دیں گی۔

طاہرالقادری نے وزیراعظم کے کروڑوں افراد کانمائندہ ہونے کے دعوے پر بھی تنقید کی کہ ان کے خلاف تودھاندلی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق ، ویتنام ، بنگلہ دیش اور گھانا جیسے ممالک بھی اقوامِ متحدہ کی ’میڈیم ہیومن ڈیولپمنٹ‘ میں آتے ہیں لیکن پاکستان ان لوگوں کی کرپشن کے باعث ’لوئرمیڈٰیم ڈیولپمنٹ‘ کی فہرست میں آتا ہے جس میں نمیبیا اورصومالیہ جیسے ممالک ہیں۔

بھارت میں دوہزاراڑسٹھ افراد کونااہل قرار دے کر اسمبلیوں سے باہرنکال دیا گیا اوریہاں ایک شخص کو بھی نہیں نکالاجاستکا۔

عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ عوام کی بنیادی سہولیاتِ زندگی سی محرومی کی صرف دوبنیادی وجوہات ہیں ایک حکمرانوں کی کرپشن اورایک انکی نااہلیت۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مہینہ چار دن سے بیٹھے احتجاج کرتے ہوئے لوگ نواز شریف کو نظر نہیں آرہے ہیں۔

انہوں نے اولڈ ایج بینفٹ میں ہونے والی چالیس ارب روپے کی کرپشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ غریب بزرگوں کاحق مارا ہے، بڑھاپے کا سہارا چھینا ہے ان سب کی بد دعائیں لگیں گی۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر نواز شریف واقعی کروڑوں لوگوں کے نمائندے ہیں تو جتنی عوام ہم اسلام آباد میں لے کر بیٹھے ہیں وہ اتنی ہی عوام لے کر صرف ساتھ دن کہیں بیٹھ جائیں تو دھرنا ختم کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں