The news is by your side.

Advertisement

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی حادثہ نہیں، بھتہ نہ دینے کا انجام

کراچی: سانحہ بلدیہ ٹاؤن کوئی حادثہ نہیں بلکہ منظم دہشتگردی تھی، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیکٹری کو آگ بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی۔

پاکستان کی تاریخ کے المناک سانحہ بلدیہ ٹاؤن جس میں ڈھائی سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، سانحے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ منظم دہشت گردی تھی، جس کا ملزم پکڑا گیا ہے۔ جس نے دورانِ تفتیش اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سیاسی جماعت کے اعلیٰ عہدیدار نے فیکٹری مالکان سے بیس کروڑ بھتہ مانگا تھا۔

فیکٹری مالکان بات کرنے گئے تو اعلیٰ عہدیدار نے لاتعلقی ظاہر کی، تلخ کلامی کے بعد اس سے پارٹی کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں اور بھتہ نہ ملنے پر کیمیکل پھینک کر علی انٹرپرائزز کو آگ لگادی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے ایک وزیر نے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا، سابق وزیراعظم نے مالکان کی ضمانت کرائی، تاہم دباؤ پر پیچھے ہٹ گئے، فرنٹ مین نے کیس ختم کرانے کیلئے فیکٹری مالکان سے پندرہ کروڑ روپے لئے۔

ملزم سے میڈیا سمیت اہم شخصیات کی فہرست بھی ملی، جن کی ٹارگٹ کلنگ کرنا تھی، اس میں اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن کا نام بھی موجود ہے۔

جی آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کے ایم سی کا سینیٹری ورکر اور سیاسی جماعت کا کارکن ہے، عدالت نے رینجرز کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں