The news is by your side.

Advertisement

بچپن کی شادی: رخصتی نہ کرنے پر 16لاکھ روپے جرمانہ، برادری بدر

نئی دہلی: بھارت میں 19 سالہ لڑکی کے اہلِ خانہ کو بچپن میں طے شدہ شادی انجام نہ دینے پر16 لاکھ روپے جرمانہ اوربرادری سے خارج کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راجھستان کے علاقے جودھ پور سے 60 کلومیٹر دور واقع ایک دیہات میں رہائش پذیر سندیتی میگھوال کی شادی محض11 ماہ کی عمرمیں اسی کے گاؤں کے 9 سالہ بچے سے کی گئی تھی۔

سندیتی کو اس کی شادی کا علم 16 سال کی عمرمیں ہوااوراپنے ماں باپ کی حمایت پاکراس نے اس شادی کو قبول کرنے اور سسرال جاکر رہنے سے انکار کردیا جیسا کہ اس سے مطالبہ کیا جارہا تھا۔

سندیتی نے ایک سی این این آئی بی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں بالغ ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میرے ساتھ کتنی بڑی نا انصافی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سسرال جانے کے بجائے پڑھ لکھ کر ٹیچر بننا چاہتی ہیں‘‘۔

سندیتی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے سسرال والوں نے رشتہ ختم کرنے سے انکار کردیا اور معاملہ روہیچن خرد کی مقامی پنچایت میں لے گئے۔

پنچایت نے سسرال والوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سندیتی اور اس کے اہل خانہ کو برادری سے خارج کرتے ہوئے 16 لاکھ روپے جرمانہ بھی عاید کردیا۔

دوسری جانب سندیتی کے سسرال والوں اور پنچایت کے ممبران نے اس معاملے پرمیڈیا میں کسی بھی قسم کا اظہار خیال کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں بچپن کی شادی پر پابندی عائد ہے لیکن یہ وبا ہندوستانی معاشرے کی جڑوں میں پھیلی ہوئی ہے اور 47 فیصد خواتین کی شادی ان کے بالغ ہونے سے پہلے ان کی مرضی کے بغیرکردی جاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں