بہت احتیاط شروع کردیں،بڑا خون خرابہ نظرآرہاہے،الطاف حسین -
The news is by your side.

Advertisement

بہت احتیاط شروع کردیں،بڑا خون خرابہ نظرآرہاہے،الطاف حسین

کراچی:الطاف حسین نے اپنے خدشات کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت خون خرابہ ہوسکتا ہے، عوام بارہ بجےکے بعد محفوظ مقامات پر رہیں، آئینی مارشل لاء کا امکان ہے، حکومت لچک پیدا کرے، قربانی دینی ہوگی۔

اے آر وائی سے خصوصی انٹرویو میں الطاف حسین نےکہا کہ بہت احتیاط شروع کر دیں، مجھے بڑا خون خرابہ نظر آ رہا ہے، ملک کو ضد،ہٹ دھرمی اور انا کی بھینٹ چڑھانے کوشش کی جارہی ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ محفوظ مقامات پر رہیں اوربارہ بجے کے بعد غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔

انہوں نےکہا کہ قربانی دیکر ملکی سالمیت کو بچایا جاسکتا ہے، طاہرالقادری کے چھ مطالبات ملک کیلئے بہترسمجھتا ہوں، کوئی سمجھے یا نا سمجھے، طاہرالقادری اسمبلی تحلیل کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں، الطاف حسین نےطاہر القادری سے اپیل کی خدارا ریڈزون پار نہ کریں۔

 انہوں نے کہا کہ خدارا مسائل کا حل مذاکرات سے نکالیں، الطاف حسین نے سوالیہ اندازمیں کہا کہ کیا جمہوری دورمیں آرٹیکل دو سو پینتالیس اور پی پی او مارشل لاء کی اقسام نہیں؟ اب مجھے آئین کی چھتری تلے غیر آئینی اقدام ہوتا نظر آرہا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے عمران خان کا وزیراعظم نوازشریف سے تیس دن کے استعفے کے مطالبہ مذاق قرار دیا اور کہا کہ مستقل حل نکالیں۔

الطاف حسین نے مزید کہا کہ بارہ بجے کے بعد کوشش کریں محفوظ جگہوں پر رہیں، الطاف حسین نے عمران خان کو 25 سیٹیں دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بچانے کے لئے اب قربانی دینے کی ضرورت ہے کیونکہ قربانی دے کر ہی پاکستانی سالمیت کو بچایا جاسکتا ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ اگر اس سے مسئلے کا حل نکلتا ہے تو میں 25 سیٹوں سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہوں اور ہم جن 25 سیٹوں کو خالی کریں گے ان پر انتخابات نہیں لڑیں گے۔

اس سے قبل الطاف حسین نے اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی نازک صورتحال کاسنجیدگی سےاحساس کریں اوربامعنی مذاکرات کےذریعےمسائل حل کریں۔ 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں ۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھاکہ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے، ملک کو اندرونی وبیرونی چیلنجزکا سامنا ہے اور اب تک قومی خزانے کو آٹھ سو ارب روپے سے زائد کانقصان پہنچ چکا ہے، الطاف حسین نے حکومت اور دھرنا دینے والی جماعتوں سے بامعنی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنیکی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ملک کی نازک سیاسی صورتحال کا احساس کریں ۔

ایم کیو ایم کے قائد نےبتایا کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے بات چیت کیلئے سینئر ارکان پرمشتمل ٹیم تشکیل دیدی ہے۔ انہوں نے ایم کیوایم کے سنیئر اراکین اور پارلیمنٹرینز کو فوری طور پراسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری کے بیشترمطالبات عوامی امنگوں کے ترجمان ہیں، جو آئین و قانون سے ہرگز متصادم نہیں، ایسے مطالبات تسلیم کرنے کیلئے حکومت قدم اٹھائے، انکا کہنا تھا کہ انتہائی تیز رفتاری سے فیصلے کرنے ہونگے، ایم کیوایم کے قائد کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے اور اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں