The news is by your side.

Advertisement

جوڈیشل کمیشن کی کارروائی: مختلف رہنماؤں کے بیانات قلمبند

اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے طلب کئے گئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سات ریٹررننگ آفیسرز نے امیدواروں کو حتمی گنتی کیلئے نوٹس جاری نہ کئے جانے کے الزام کی حلفاً تردید کردی۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے فارم 15 کے حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن کو طلب کئے جانے کی تجویز پر فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔

کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فارم پندرہ سے متعلق بیشتر تفصیلات سامنے آگئی ہیں جبکہ فارم پندرہ کی رپورٹ کے حوالے سے ابھی کوئی تبصرہ نہیں کریں گے اور جائزہ لیں گے کہ ایڈیشنل سیکرٹر ی کو بلانے کی ضرورت ہے کہ نہیں ۔

بدھ کے روز ہونے والی کارروائی میں سات ریٹرننگ افسران کے علاوہ جماعت اسلامی اور مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے پیش کئے گئے گواہوں پر جرح مکمل کی گئی۔

جماعت اسلامی کے گواہ محمد حسین محنتی نے عدالت کو بتایا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر متحدہ کے کارکنوں کی جانب سے قبضہ کر لیا گیا تھا اور ان کے جماعت اسلامی کے پولنگ ایجنٹس کو مار پیٹ کر نکال دیا گیا تھا۔

ان کی شکایت پر تیس ایف آئی آر درج ہوئیں اور صورت حال بہتر نہ ہونے پر جماعت اسلامی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔ محمد حسین محنتی نے کمیشن سے استدعا کی کہ کراچی میں دوبارہ الیکشنز کی سفارش کی جائے ۔

مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے آفتاب احمد اور طارق علی نے اپنے بیانات میں متحدہ پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقوں میں ووٹروں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا گیا اور الیکشن میں دھاندلی کے لئے طاقت کا استعمال بھی کیا گیا ۔

فارم پندرہ نہ پہنچنے پر تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرا زادہ نے کہا کہ جب تک مواد سامنے نہ ہو وہ دلائل نہیں دے سکیں گے اس لئے فارم پندرہ آنے تک سماعت ملتوی کر دی جائے جس پر کمیشن نے سماعت پیر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں