The news is by your side.

Advertisement

خصوصی عدالت میں مشرف کی عدم حاضری، فیصلہ 3 بجے سنایا جائیگا

پرویز مشرف خصوصی عدالت میں آج بھی پیش نہیں ہوئے، عدالت نے عدم حاضری پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج  تین بجے سُنایا جائے گا، مقدمے کی مزید سماعت کل ہوگئی۔

خصوصی عدالت میں پرویزمشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو معاملہ ایک بار وہی یعنی سابق صدرکی عدالت میں پیشی تھا،  تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ بتایا جائے پرویز مشرف عدالت کیوں نہیں آئے؟ جس پر وکیل سرکار اکرم شیخ نے کہا کہ مشرف جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا کہ وہ عدالت پیش نہیں ہوسکتے، عدالت کے حکم پرعمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، اکرم شیخ نے استدعا کی کہ عدالت اپنے حکم کی خلاف ورزی پر کاروائی کرے، انھوں نے دلائل میں کہا کہ جو شخص عدالتی حکم پر عدالت میں پیش نہیں ہوتا وہ اپنے دفاع کا اختیار کھو دیتا ہے، صدر حسنی مبارک کو اسٹریچر پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے دلائل میں کہا کہ اکرم شیخ پراسیکیوٹر ہیں، انھیں پرسی کیوٹر کا کردار ادا کرنا نہیں چاہیئے، اکرم شیخ عدالت کی معاونت کریں، مشرف کو زبردستی سزا دلوانے کی کوشش نہ کریں، ایک موقع پر پرویز مشرف کے وکلاء اور وکیل سرکار میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

انور منصور نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے تجویز کیا ہے کہ مشرف اسی اسپتال سے علاج کروائیں، جہاں سے وہ پہلے معائنہ کروا چکے ہیں، مشرف کو علاج کیلئے فرانس جانے کا مشورہ دیا گیا ہے، انور منصور کا کہنا تھا کہ عدالت مشرف کی گرفتاری کا حکم دے دیتی ہے اور اگرکل یہ عدالت قانونی قرارنہیں پاتی تو مشرف کے چہرے پر جو داغ لگ جائے گا اسکا ذمہ دار کون ہوگا؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں