خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت -
The news is by your side.

Advertisement

خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت

خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے، سابق صدر آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

خصوصی عدالت میں پرویزمشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو معاملہ ایک بار وہی یعنی سابق صدر کی عدالت میں پیشی تھا، تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ بتایا جائے پرویز مشرف عدالت کیوں نہیں آئے؟

جس پر وکیل سرکار اکرم شیخ نے کہا کہ مشرف جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، میڈیکل رپورٹ میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا کہ وہ عدالت پیش نہیں ہوسکتے، عدالت کے حکم پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

اکرم شیخ نے استدعا کی کہ عدالت اپنے حکم کی خلاف ورزی پر کاروائی کرے، انھوں نے دلائل میں کہا کہ جو شخص عدالتی حکم پر عدالت میں پیش نہیں ہوتا وہ اپنے دفاع کا اختیار کھو دیتا ہے، صدر حسنی مبارک کو اسٹریچر پرعدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے دلائل میں کہا کہ اکرم شیخ پراسیکیوٹر ہیں، انھیں پرسی کیوٹر کا کردار ادا کرنا نہیں چاہیئے، اکرم شیخ عدالت کی معاونت کریں مشرف کو زبردستی سزا دلوانے کی کوشش نہ کریں۔

ایک موقع پر پرویز مشرف کے وکلاء اور وکیل سرکار میں تلخ کلامی بھی ہوئی، انور منصور نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے تجویز کیا ہے کہ مشرف اسی اسپتال سے علاج کروائیں جہاں سے وہ پہلے معائنہ کروا چکے ہیں۔

مشرف کو علاج کیلئے فرانس جانے کا مشورہ دیا گیا ہے، انور منصور کا کہنا تھا کہ عدالت مشرف کی گرفتاری کا حکم دے دیتی ہے اور اگر کل یہ عدالت قانونی قرار نہیں پاتی تو مشرف کے چہرے پر جو داغ لگ جائے گا اسکا ذمہ دار کون ہوگا؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں