The news is by your side.

Advertisement

خواجہ سعد رفیق کا الیکشن کمیشن کےفیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ ان کے نہیں الیکشن کمیشن کے عملے کے خلاف ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 25 اپریل کو این اے 125 کے ووٹرنے کنٹونمنٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔

 الیکشن ٹربیونل نے آج این اے 125 میں پی ٹی آئی کے حامد زمان کی جانب سے داخل کردہ درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا ہے۔


الیکشن ٹربیونل نے خواجہ سعد رفیق کونااہل قراردےدیا


انہوں نے کہا کہ آج کا فیصلہ ریٹرننگ افسراورالیکشن عملے کی نا اہلی کے خلاف فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جج نے اپنے فیصلے میں واضح کہا ہے کہ پی ٹی آئی دھاندلی ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے لہذا ہمارے پاس سپریم کورٹ میں جانے کا آپشن موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی کہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے یا الیکشن میں جایا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹربیونل نے آر او اور پریزائڈنگ افسروں کی غلطی کی سزا انہیں اور ان کے سوا لاکھ ووٹروں کو سزادی گئی ہے۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میں اس لئے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا کہ عدالت کے مطابق غلطی الیکشن کمیشن کے عملے کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طورپرجوڈیشل کمیشن کے قیام کو بلا ضرورت سمجھتے ہیں لیکن پارٹی کی اکثریت کا فیصلہ تھا اس لئے احترام کرتا ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلوے کا محمکہ اتنا مستحکم ہوچکا ہے کہ اب اگر میں نا بھی رہوں تو ریلوے پٹری پر چلتی رہے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں