The news is by your side.

Advertisement

روسی پیسا برطانیہ کو تباہ کر رہا ہے، سیاست دانوں کی دہائی

لندن: برطانوی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ لندن میں روسی کالے دھن کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے برطانیہ تباہ ہورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی فارن افیئرز کمیٹی نے آج ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روسی پیسے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک برطانیہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ روسی پیسا برطانوی اثاثوں میں چھپا دیا گیا تھا جس کی مالیاتی اداروں نے لندن میں لانڈرنگ کرلی تھی۔

برطانوی پارلیمنٹ کے ایک رکن ٹام ٹوجینڈھٹ کا کہنا ہے کہ اس کالے دھن سے برطانوی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کی وجہ سے لندن میں روسی ٹرانزیکشن سے ہونے والا فائدہ بھی سکڑ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ روسی صدر پیوٹن کے کاسہ لیسوں اور انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا جو لندن میں کالا دھن سفید کرکے ہمارے دوستوں کو خرید رہے ہیں اور ہمارے اتحاد کو کم زور کر رہے ہیں، جس سے اپنے ہی اداروں پر ہمارا اعتماد متزلزل ہورہا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں اس نکتے کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ کس طرح تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل سابقہ روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل اور ان کی بیٹی یولیا کو زہر دینے والے واقعے کی وجہ سے آخر کار مغربی ممالک سے روسی سفارت کاروں کو نکلنا پڑا تھا۔

برطانیہ: اعصابی گیس حملے کے شکار سابق روسی جاسوس کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا


رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد بھی پیوٹن اور اس کے اتحادی لندن میں آزادانہ طور پر اپنا کالا دھن چھپا کر کاروبار کرتے رہے۔

دوسری طرف کمیٹی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد تجاویز  جاری کردی ہیں، جن میں روسی صدر کے حامیوں پر مزید پابندیاں، کارپوریٹ اونر شپ میں شفافیت کا فروغ اور لوپ ہولز بند کرنا شامل ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں