site
stats
اہم ترین

سانحۂ پشاور کو ایک ماہ بیت گیا

سانحۂ پشاور کو آج ایک ماہ پورا ہوگیا، اس سانحے نے جہاں قوم کو غمزدہ کر دیا وہیں پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔

سانحۂ پشاور میں برپا کی جانے والی بربریت کو آج ایک ماہ بیت گیا ہے، پشاور سانحے میں بچوں کی شہادت نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اندوہناک واقعے آرمی پبلک سکول و کالج پشاور پر وحشیانہ حملے کے دوران ایک 134معصوم بچوں سمیت 141افراد شہید ہوگئے تھے، جن میں کالج کی پرنسپل اور دیگر اساتذہ اور اسٹاف ممبر شامل تھے۔

  سولہ دسمبر کا سورج جب طلوع ہوا تو آرمی پبلک اسکول جانے والے ننھے پھولوں کو علم نہیں تھا کہ وہاں موت ان کی منتظر ہے، دہشتگردوں نے دس بجے کے قریب اسکول پر حملہ کیا اور وحشت وبربریت سے انسانیت کا سینہ چھلنی کر دیا، پاک فوج نے چھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد سکول کو کلیئر کر دیا لیکن اس سانحے میں 134ننھے پھول زندگی سے محروم ہوگئے، 17 سٹاف ممبر بھی بربیت کا نشانہ بنے۔

وزیرِاعظم محمد نواز شریف خود پشاور پہنچے اور انہوں نے آپریشن کو مانیٹر کیا، وزیرِاعظم کی جانب سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا، سانحے کے اگلے وزیراعظم کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس ہوئی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے دہشتگردی کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سانحہ پشاور کے بعد ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف پاک فوج اور سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

سانحے پشاور کے بعد صوبے بھر کے اسکول 12 جنوری تک بند کر دیئے گئے،حکومت کی جانب سے اسکولوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے اقدامات شروع کئے گئے،  بارہ جنوری کو آرمی پبلک سکول سمیت تمام اسکولوں کو کھول دیا گیا۔ آرمی چیف نے خود اسکول پہنچ کر غازیوں کا استقبال کیا۔

واقعے کو ایک ماہ بیت گیا لیکن اس کے اثرات سے لوگ ابھی تک باہر نہیں آسکے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کو سخت سیکیورٹی میں کھولا گیا لیکن اسکول کے بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے کیلئے پرعزم ہیں، بچوں نے بلند حوصلے اور دہشت گردی کے خلاف پر عزم رہنے کا اظہار کیا ہے۔

ایک ماہ قبل سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کی صبح اہل پاکستان کیلئے قیامت سے کم نہ تھی، آرمی پبلک اسکول میں ایک سو چونتیس ننھے پھول زندگی کی رعنائیوں سے محروم ہوگئے، سانحے نے پوری قوم کو یکجا کردیا۔

سانحہ پشاور میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔

دہشت گردی کے اس المناک سانحے نے بچوں کےعزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بزدلانہ اقدام سے دشمن انہیں ڈرا نہیں سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top