site
stats
پاکستان

سانحہ ایئربلیوکوبیتے 5 برس بیت گئے

اسلام آباد: مرگلہ کے دامن میں ایئر بلیو کی پرواز 202 کو حادثہ پیش آئے آج 5 برس بیت گئے، سانحے میں عملے اور مسافروں سمیت 152 افراد اپنی جان سےہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

ایئر بلیو نامی نجی ایئرلائن کی ایئربس اے 321-231 نامی بدقسمت پرواز جو کہ 28 جولائی 2010 کو کراچی سے اسلام آباد جارہا تھا لینڈنگ سے محض چند لمحے قبل حادثے کا شکار ہوکرمرگلہ کے دامن میں جا گرا۔

air blue

حادثے کے وقت جہاز میں 146 مسافر اور عملہ کے 6 موجود تھے اور سب کے سب اس اندوہناک حادثے میں لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ یہ حادثہ پاکستان کی فضائی تاریخ کا بد ترین واقع ہے۔

air blue

جہاز کے بد قسمت مسافروں میں 142 پاکستانی ، 2 امریکی، 1 صومالیہ اور 1 آسٹریا کا شہری شامل ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس حادثے کا سبب جہاز کے عملے بالخصوص کپتان کی غفلت تھی جس نے ہوا بازی کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتے جہاز اور اس کے مسافروں کو موت کے منہ میں دکھیلا۔

air blue

سال 2012 میں سول ایوی ایشن کی جانب سے طیارے کے بلیک باکس اورایئرٹریفک کنٹرولر کے ریکارڈسے حاصل کردہ معلومات کی بنا پر مرتب کردہ نتائج کے مطابق جہاز کے کپتان پرویز اقبال چوہدری نے متعدد مرتبہ ایئرٹریفک کنٹرولر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کو نظر انداز کیا، ریکارڈ کے مطابق ایک موقع پرکپتان نے فلائٹ آفیسرسے ایئرٹریفک کنٹرولر کے بارے میں کہا کہ ’’اسے کہنے دو جو بھی کہہ رہا ہے‘‘۔

air blue

اس سے قبل پاکستان کی شہری ہوا بازی کی تاریخ کا مہلک ترین حادثہ 25 اگست 1989ء کو پیش آیا تھا جب گلگت سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا ایک طیارہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں عملے کے پانچ ارکان سمیت 54افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔

سانحے کی یاد میں ہرسال حادثے کے مقام پر پسماندگان کی جانب سے جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جاتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top