site
stats
اہم ترین

صولت مرزا کی سزا مؤخر: بابراعوان نے قانونی نکات واضح کردئیے

کراچی (ویب ڈیسک ) – ٹارگٹ کلنگ کے جرم میں سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کی صدارتی حکم کے تحت پھانسی روکنے کا حکم نامہ اے آروائی نیوزکو موصول ہوگیا۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء اور ممتازماہرِقانون بابراعوان نے اس معاملے پراے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاملے کے قانونی پہلوؤں پرروشی ڈالی۔

صولت مرزا نے جولائی 1997 میں کے ای ایس سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد، ان کے ڈرائیوراشرف بروہیاورگن مین خان اکبر کے قتل کیا تھا۔ اس تہرے قتل کے جرم میں صولت مرزا کو مئی 1999پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

صولت مرزا کی پھانسی کی سزا پرعملدرآمد کے لئے 11 مارچ 2015 کو بلیک وارنٹ جاری کیے گئے جس کے
تحت مجرم کو 19مارچ کی صبح پھانسی دی جانی تھی۔


صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری


  گزشتہ رات وزارت داخلہ نے ایک سمری ایوانِ صدر بھیجی جس میں صولت مرزا کی پھانسی روکنے کی استدعا کی گئی تھی، صدارتی احکامات کی بناءپرصولت مرزاکی پھانسی موخرکردی گئی۔

ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پھانسی کی سزا موخر ہونے کی صورت میں چند آئینی اور قانونی پیچیدگیاں سامنے آئیہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ اعتراض اٹھے گا کہ آیا بلیک وارنٹ جاری کرنے کے بعد صدرِمملکت کو سزامعاف یا موخرکرنے کا اختیاررہتا ہے تو بالکل صدر کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا آخری لمحوں میں معاف یاملتوی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ سزا کا موخر کیا جاناپاکستان پینل کوڈ سیکشن 24 اور4 جبکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 اے کے مطابق ہے یا نہیں۔

پاکستان پینل کوڈ سیکشن 4

پی پی سی کے سیکشن 4 کے مطابق اگر کوئی پاکستانی دنیا کے کسی بھی حصے میں جرم کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف پاکستان کی کسی بھی عدالت میں کاروائی کی جاسکتی ہے۔

پاکستان پینل کوڈ سیکشن 24

پی پی سی سیکشن 24 کے تحت بددیانتی کے مرتکب مجرمان کو سزا دی جاتی ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل جو کسی دوسرے شخص کو ناجائز فائدہ یا نقصان پہنچانے کے لئے کیا جائے ’بددیانتی‘کے زمرے میں آتے ہیں۔

آئین پاکستان آرٹیکل 10 اے

کوئی بھی شخص اگرکسی بھی نوعیت کے جرم میں ملوث پایا جائے یانامزد ہوجائے تو اسے پوراحق حاصل ہے کہ اس کے مقدمے کی سماعت ضابطے اورقانون کے مطابق کی جائے اوراسے مقدمے کی آزادانہ پیروی کا حق دیا جائے۔
ڈاکٹر بابراعوان کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کے تمام قانونی نکات ایک طرف لیکن اس کی حیثیت ایم کیو ایم کے خلاف اسٹنگ آپریشن کی سی ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی پی سی کے سیکشن 337 کے تحت صولت مرزا کو وعدہ معاف گواہ بنایا جاسکتا ہے‘‘۔

انہوں نےکہا کہ موجودہ صورتحال ایم کیو ایم کے لئے تشویشناک ہے اور صولت مرزا کی پھانسی ملتوی ہونے کے انتہائی سنجیدہ عوامل سامنے آئیں گے

 


دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے صولت مرزا کی پھانسی موخر کرنے کے حوالے سےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’مچھ جیل کے حکام کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو درخواست موصول ہوئی کہ صولت مرزا کی صحت کے مسائل ہیں جن کے باعث انکی پھانسی موخر کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top