The news is by your side.

Advertisement

ضرب عضب کا دائرہ ملک کے اندر بھی بڑھایا جائے گا، نواز شریف

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا کہنا  ہے کہ پشاور واقع ملک و قوم کے کیلئے ایک بڑا المیہ ہے اور قوم کی نگاہیں ملکی و سیاسی قیادت پر لگی ہیں کہ وہ ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں شروع ہوا جس میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر بھی موجود ہیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا ہے، جس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف نے کی۔ اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مختصر وقت میں اس اجلاس کے لئے تشریف لائے۔

نواز شریف نے کہا کہ قوم کی نظریں ہم پر لگی ہیں کہ پاکستان کی حکومت و سیاسی قیادت کیا فیصلے کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح پشاور کا سانحہ ہوا ہے اس کی مثال دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی سکتی۔

نواز شریف نے کہا کہ اس غیر معمولی صورت حال کا حل بھی غیر معمولی ہی ہونا چائیں، انھوں نے  کہا کہ ساری ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمزور منصوبوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اگر ہم نے اب بھی کوئی اہم اقدامات نہیں کئے تو قوم معاف نہیں کرے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ سخت فیصلے ان کے خلاف کرنے ہونگے جنھوں نے ہمارے معصوم بچوں کو مارا ہے اور ان عناصر کے ہاتھوں میں اسلحہ ہے اور یہ کسی آئین اور قانون کو نہیں مانتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس ساری جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ہزاروں پاکستانی اس جنگ میں اپنی جانیں پیش کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اتنے معاملات خراب ہو نے کہ بعد بھی فیصلہ کن جنگ ان دہشت گرد عناصر کیخلاف شروع نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اب یہ کام ہم کریں گے۔

انھوں نے کہا  کہ بات کس سے کی جائے؟ انھوں نے کہا کہ بہت سے چھوٹے چھوٹے گروپ ہمارے ملک کے خلاف کام کررہے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی واقع کے بعد سیاسی قیادت سے مشاورت کی گئی جس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اب ان دہشت گردوں سے کوئی مزاکرات نہیں کئے جائے نگے اور دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان قیادت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف کاروائی کریں گے جو پاکستان کیخلاف افغانستان سے حملوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ افغانستان پاکستان کی دہشت گردی کی جنگ میں اس کے ساتھ ہے۔

نواز شریف نے اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھی افغان حکام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہماری جانب سے بھی ان عناصر کیخلاف کاروائی کی جائے گی جو پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نظریں ہم پر ہے کہ پاکستان کی لیڈر شپ قوم کے تحفظ کیلئے کس قسم کے فیصلے کرتی ہے اور اس لئے ہمیں بہتر اور صحیح فیصلے کرنے ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سخت فیصلے کر نے ہونگے اور ہم پشاور جیسے کسی اور واقع کا انتظار نہیں کر سکتے، انھوں نے کہا کہ ہمیں فوری کاروائی کرنا ہوگی۔

نواز شریف نے تمام رہنماوں سے کہا کہ جس کسی کو بھی کو خدشہ ہے تو اس کو یہی پر حل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب یہاں اکھٹے ہو ئے ہیں تاکہ ملک و قوم کو ان دہشت گردوں سے نجات دلائی جاسکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو اکھٹا ہونا چاہیں کیونکہ دنیا اور پاکستانی قوم سب کی توقع ہم سے وابسطہ ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہمیں ایسے فیصلے کرنا ہونگے جو ملک و قوم کے حق میں صحیح ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یہاں موجود تمام جماعتیں جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کررہی ہیں اور کرتی رہی ہیں۔

نواز شریف نے تقریر کے دوران کئی بار یہ دہرایا کہ پشاور واقع انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ پارلیمانی کمیٹی اکا اہم ترین اجلاس جاری ہے جس میں نواز شریف کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار اور جنرل راحیل شریف  بھی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں