عاصمہ قتل کیس: مرکزی ملزم بیرون ملک فرار، انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

عاصمہ قتل کیس: مرکزی ملزم بیرون ملک فرار، انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ

کوہاٹ: خیبرپختون خواہ حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے. میڈیکل کالج کی طالبہ کا قاتل سعودی عرب فرار ہوگیا.

تفصیلات کے مطابق رشتے سے انکار پر طالبہ عاصمہ رانی کو قتل کرنے والا ملزم بیرون ملک فراہم ہوگیا، جب کہ قاتل کی معاونت کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا. واقعے کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

یاد رہے، گذشتہ روز ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی طالبہ کو کوہاٹ میں‌ اس گھر کے باہر ملزم نے فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا. تین گولیاں‌ لگنے کے بعد عاصمہ کو جان کنی کی حالت میں‌ اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں‌ کی تاب نہ لاسکی.

مقتولہ نے دم توڑنے سے قبل اپنے اہل خانہ کو مجاہد آفریدی کا نام بتایا تھا، جو تحریک انصاف کے ضلعی صدرآفتاب عالم ایڈووکیٹ کا بھتیجا ہے۔ میڈیا میں‌ خبریں آنے اور مقدمہ درج ہونے کے باوجود انتظامیہ حرکت میں نہیں آئی اور ملزم آسانی سے سعودی عرب فرار ہوگیا.

پولیس نے خواب غفلت سے جاگنے کے بعد قتل میں‌ معاونت کرنے والے شخص کو گرفتارکر لیا ہے، جو مجاہد کا بھائی ہے، پولیس نےقاتل کی تصویرجاری کی ہے. آئی جی خیبرپختون خواہ صلاح الدین محسود نے اپنے ایک بیان میں‌ کہا ہے کہ عاصمہ قتل کیس کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو کوئی دبائو قبول نہیں‌ کرے گی. انٹرپول سےرابطہ کرکےملزم جلد گرفتار کرلیاجائے گا۔

کوہاٹ : شادی سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

قبل ازیں عاصمہ کی  میت اس کے آبائی علاقے لکی مروت منتقل کی گئی، جہاں اسے سپرد خاک کیا گیا۔

حالت نزع میں‌ بنائی جانے والی عاصمہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس پر شدید ردعمل آیا، ایبٹ آباد کی طلبا تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا اور قتل کے خلاف کے پی اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرائی گئی۔

عاصمہ کے ایک رشتے دار کے مطابق مجاہد آفریدی پہلے سے شادی شدہ ہے، اس نے عاصمہ سے شادی کے لیے رشتہ بھجوایا تھا تاہم شادی شدہ ہونے کی وجہ سے انکار کردیا گیا، جس کے ردعمل میں اس نے عاصمہ کو نشانہ بنایا۔


 اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں