site
stats
پاکستان

فاروق ستار نے علی رضا عابدی کو منا لیا، مشترکہ پریس کانفرنس

Farooq Sattar MQM

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان مصطفےٰ کمال کی پارٹی پی ایس پی سے الحاق کے اعلان کے بعد جن مشکلات کا شکار ہوئی تھی، اب دھیرے دھیرے ان میں کمی آرہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا ناراض رہنما علی رضا عابدی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں فاروق ستار نے علی رضاعابدی کے تمام تحفظات دورکر دیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ علی رضا عابدی کو منانے پہنچ گئے

واضح رہے کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کے الحاق، ایک نشان، ایک نام اور ایک منشور کے تحت الیکشن لڑنے کے فیصلے کے بعد ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی نے استعفی دے دیا تھا، مگر فاروق ستار کی کوششوں سے اب ان کے تحفظات دور ہوگئے ہیں اور انھوں نے دوبارہ ایم کیوایم پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جلد دونوں رہنمائوں میں ملاقات ہوگی، جس کے بعد وہ مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل بھی فاروق ستار نے علی رضا عابدی سے ملاقات کی تھی، اس موقع پر ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹسوری بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی علی رضا عابدی کے والد سے بھی بات ہوئی تھی۔ اس موقع پر علی رضا عابدی نے اپنے تحفظات ڈاکٹر فاروق ستار کے سامنے رکھے تھے۔

مشترکہ پریس کانفرنس

بعد ازاں ڈاکٹر فاروق ستار اور علی رضا عابدی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں فاروق ستار نے کہا کہ آٹھ نومبر کے اقدام سے بہت سے کارکن خوش نہیں تھے، مگر نو نومبر کو میں نے ایک تیر سے کئی شکار کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ارکان کے تحفظات دور کریں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

پیپلزپارٹی کا موقف

علی رضا عابدی کی ایم کیو ایم پاکستان میں واپسی کے کچھ دیر بعد پی پی پی کے ذرایع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان سے ناراضی کے دوران ان سے رابطے میں تھے ۔ انھوں نے اہم رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں، پریس کانفرنس کا وقت بھی مقرر تھا، مگر چند وجوہات کے باعث انھوں نے ایم کیو ایم پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top