The news is by your side.

Advertisement

فیصلہ کن کارروائی، آپریشن ضربِ عضب کوایک سال مکمل

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن ضرب عضب کی تفصیلات جاری کردیں۔

دہشتگردوں کے خلاف پاک فوج کے فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کو 15 جون کو ایک سال مکمل ہوگا، ایک سال کے عرصے میں پاک فوج نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دئیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب میں ایک سال کےدوران نوہزار سے زیادہ انٹیلی جینس بیس آپریشن کیے گئے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زمینی وفضائی حملوں میں دوہزار سات سو تریسٹھ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جن میں سے دوسواٹھارہ انتہائی خطرناک تھے۔

عصم سلیم باجوہ نے کہا کہ مختلف کارروائیوں میں دہشتگردوں کےآٹھ سو سینتیس ٹھکانےتباہ ہوئے، ڈھائی سو ٹن سے زیادہ دھماکا خیز مواد قبضے میں لیاگیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق خاکِ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے تین سو سینتالیس جوان اور افسرشہید ہوگئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ  پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج کے ساتھ  کھڑی ہے جبکہ میڈیا اور سول سوسائٹی نے بھی مثبت انداز میں پاک فوج کی مدد کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں پاکستانی ریاست کئی بار دہشت گردوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ساتھ محدود علاقوں کے لیے امن معاہدے کرتی رہی ہے، لیکن پہلی بار وفاقی حکومت نے براہِ راست تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی اپنائی۔ لیکن تمام تر مزکرات کی ناکامی کے بعد دہشتگردوں نے 8 جون 2014 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔

آٹھ جون دوہزار چودہ کو کراچی، پاکستان کے جناح انٹرنیشنل پر 10 دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ کل 31 افراد بشمول 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے، تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسے اپنے سابقہ سربراہ حکیم اللہ محسود کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے جو ایک ڈرون حملے میں نومبر 2013 کو شمالی وزیرستان میں مارا گیا تھا، سیاسی وعسکری قیادت کادہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی آپریشن ضرب عضب کا اعلان کیا۔

جون 15: 2014 کو پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکری کاوائی کا فیصلہ کیا۔

جون 15 : کو رات کو پہلے حملے میں 120 دہشت گرد مارے گئے اور بارود کا ایک بڑا ذخیرہ تباہ کیا گيا۔

جون 16:  کو جٹ طیاروں سے میر شاہ کے علاقے میں گولہ باری سے 12 ازبک دہشت گرد مارے گئے۔

  جون 17: فضائی حملے میں 25 دہشت گرد مارے گئے، اس طرح مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 215 ہو گئی۔

جون 19 : کوبرا ہیلی کاپٹروں نے رات گئے میران شاہ کے مشرق میں واقع زراتا تنگی کی پہاڑیوں پر شدت پسندوں کے مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا جس میں 15 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

جون 20: شمالی وزیرستان کے علاقے حسو خیل کے علاقے میں بمباری کی گئی جس میں شدت پسندوں کے تین ٹھکانے تباہ کیے گئے اور 20 عسکریت پسند مارے گئے۔

خیبر ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب جیٹ طیاروں کی بمباری میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ، میر علی اور دتہ خیل کے عمائدین نے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں