The news is by your side.

Advertisement

مذاکرات میں ”کچھ دو اور کچھ لو “کی پالیسی پر عمل کیا جائے، الطاف حسین

لندن: ایم کیو ایم کےقائدالطاف حسین نےتازہ ترین سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے حکومت،تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سےصبر و تحمل سےکام لینےکی اپیل کردی۔

الطاف حسین نے رہنماوٴں سےپُرزوراپیل کی کہ وہ اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں اوراپنی تقاریرمیں شائستگی اختیار کریں۔انہوں نے کہا جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق سب کو حاصل ہوتا ہے لیکن اختلاف کو دشمنی میں ہرگز تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔۔انھوں نے کہا ہمیشہ خیال رکھناچاہیئےملک صرف حکمرانوں یاحکمراں جماعت کاہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں اوردھرنے دینے والوں کا بھی ہے۔۔ ملک کی سلامتی وبقاء اوراستحکام کی ذمہ داری بھی سب پر عائد ہوتی ہے ۔

الطاف حسین نے حکومت سے دردمندانہ اپیل کی کہ دھرنے دینے والوں کے خلاف دھمکی آمیز رویہ یا طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کریں، ان کا کہنا تھا معاملات کوافہام وتفہیم سے حل کرنے کیلئےمذاکرات کاجو عمل شروع کیا تھا کوئی وقت ضائع کیے بغیر اس کافی الفور دوبارہ آغاز کیاجائے، مذاکرات میں ”کچھ دو اور کچھ لو “کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایسے حل کی طرف جائیں جہاں کسی کی بھی عزت نفس مجروح نہ ہو، الطاف حسین نے حکومت اور دھرنےدینے والوں سے اپیل کی کہ بات چیت کے ذریعہ جلد ازجلد قابل قبول حل تلاش کرلیں ورنہ ایسا نہ ہوکہ ریاست ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے مداخلت کرنے پرمجبورہو ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں