site
stats
انٹرٹینمںٹ

معروف شاعر اور ادیب رئیس امروہی کی آج 26ویں برسی منائی جارہی ہے

معروف شاعر اور ادیب رئیس امروہی کی آج چھبیسویں برسی منائی جارہی ہے، بائیس ستمبر انیس سو اٹھاسی کو نامعلوم افراد نے ادب سے محبت کرنے والی اس ہستی کو قتل کرکے ابدی نیند سلا دیا تھا۔

ممتاز شاعر کالم نگار اور دانشور رئیس امروہی کو اردو زبان سے بے حد محبت تھی،  قطعہ نگاری میں آپکو اعلی مقام حاصل تھا، یہی وجہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر قطعہ نگاری آپکی وجہ شہرت بنی ، رئیس امروہی نثر نگاری میں بھی عبور رکھتے تھے۔

رئیس امروہی بارہ ستمبر انیس سو چودہ کو ہندوستان کے شہر امروہہ میں ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپکے والد علامہ سید شفیق بھی شاعر اور عالم تھے، رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا، آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔

قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد کراچی ہجرت کی اور پھر یہیں کے ہو کررہے۔

رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پس غبار، لالہ صحرا، ملبوس بہار، آثار اور قطعات کے چار مجموعے شامل ہیں جبکہ نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ایک درجن سے زیادہ تصانیف ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top