site
stats
انفوٹینمنٹ

میاں بیوی کی نوک جھونک کے نقصانات

لندن : ایک تحقیق کے مطابق میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک کی عادت کی وجہ سے دونوں کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے، بحث وتکرار کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا کھانے کے سات گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی شرکاء جو کیلوریز خرچ نہیں کر سکے وہ سالانہ ساڑھے پانچ کلو وزن کے برابر تھے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کے مطابق کہ میاں بیوی کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافی جھگڑوں سے انسانی بدن کا میٹا بولک نظام متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر جسم میں چربی والی غذاؤں کو پراسس کرنے کا عمل تبدیل ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے جسم حراروں کا استعمال مناسب طور پر نہیں کر سکتا اور یہ اضافی چربی نتیجتاً شادی شدہ جوڑوں میں موٹاپے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔

مطالعے سے ثابت ہوا کہ ڈپریشن میں مبتلا جوڑے جن میں آپس میں گرما گرم بحث و تکرار ہوئی تھی، اُنہوں نے کم جھگڑا کرنے والے جوڑوں کے مقابلے میں کھانا کھانے کے بعد بہت کم کیلوریز برن یا استعمال کیں۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ ایسے جوڑوں کے خون میں انسولین کی مقدار بھی زیادہ تھی جبکہ محققین کے بقول انسولین جسم میں چربی کا ذخیرہ کرنے میں مدد کرتی ہے اور خون میں چربی کی ایک قسم ‘ٹرائی گلسٹرائس’ کی سطح کو کم رکھتی ہے۔

امریکی محققین کے مطالعے میں 43 جوڑے شامل تھے، جن کی شادی کو کم از کم تین برس کا عرصہ ہو گیا تھا، ان کی عمریں 24 سے 61 سال کے درمیان تھیں۔ شرکاء سے ان کی ازدواجی زندگی میں اطمینان، مزاج سے متعلق مرض اور ڈپریشن کی علامات کے بارے میں ایک سوالنامہ بھروایا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top