site
stats
عالمی خبریں

نابینا بھارتی پروفیسر مسلمان ہونے کے باعث کرائے کے گھر سے محروم

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کی مسلمان نابینا پروفیسر خاتون کو مسلمان ہونے کی بناء پر گھر کرائے پردینے سے انکار کر دیا گیا، خاتون پروفیسر نے نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سے مدد مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے لئے زندگی مشکل سے مشکل ترین بنا دی گئی،انتہا پسند ہندوؤں کے حوصلے مزید بڑھ گئے، مسلمانوں کو زندگی کی ہر بنیادی سہولت اور حق سے محروم کرنے کی مہم میں  تیزی آگئی۔

کیرالہ کی رہائشی مسلمان نابینا خاتون پروفیسر ریم شمس الدین کا دہلی یونیورسٹی سے ملحقہ کالج میں تبادلہ کیا گیا نئی دہلی پہنچی تو سر چھپانے کے لئے ٹھکانہ نہ ملامسلمان ہونے کی وجہ سے کرائے پر لیا گیا مکان بھی چھین لیا گیا، ریم شمس الدین نےایک فلیٹ کا ایڈوانس کرایہ دیکر معاملہ طے کیا،والدہ کے ساتھ سامان لیکر پہنچی تو مکان مالکہ نے چابی دینے سے انکار کر دیاکہا تم مسلمان ہو فلیٹ نہیں مل سکتا۔

ریم شمس الدین نے در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر نئی دہلی کے وزیراعلیٰ کے نام اپ لوڈ کیا ریم شمس الدین کا کہنا ہے کہ یہ صرف میرا مسئلہ نہیں یہ ہزاروں مسلمانوں کا مسئلہ ہے جنہیں مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

ریم شمس الدین نے نئی دہلی کے وزیراعلیٰ سے انصاف کی اپیل کی اور کہا کہ اروند کیجریوال اپنے منشور کے مطابق ہر اسٹوڈنٹ اور دوسری ریاستوں سے آنے والوں کو انصاف مہیا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top