The news is by your side.

Advertisement

عمران خان آپ کی طرح ڈاکو نہیں، ن لیگ تقسیم ہوچکی ہے: فواد چوہدری کی دھواں دار پریس کانفرنس

لاہور : آرمی چیف کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ خوش آئند ہے، اس سے قومی سلامتی کے معاملات سمجھنے میں مدد ملے گی۔ آئینی ترمیمی بل سے نئےانتخابات کی راہ ہموار ہوگئی، ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے لاہور میں‌ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

  ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ترمیمی بل کی حمایت کرتی ہے، حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کیا جائے، دھرنے کے شرکا میں پیسے وزیراعظم کی ہدایت پر تقسیم  کیے گئے، مگر فوج پر تنقید کی گئی، جو ہر الزام فوج  پرلگاتے ہیں ان کی آنکھیں آج کھل جانی چاہییں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے اپنی دھواں دار پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا، نوازشریف کے خلاف کیسز آخری مراحل میں ہیں، ان کے پاس اپنے دفاع میں‌ کہنے کے لیے کچھ نہیں‌ رہ گیا. وہ عدلیہ کےخلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، جس دن تحریک کا آغاز کریں گے، پی ٹی آئی اداروں کی حمایت میں تحریک کا آغاز کردے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اب نوازشریف گروپ بن گیا ہے، یہ گروپ اداروں، عدلیہ اور پاکستان کے خلاف ہے، مسلم لیگ ن کا رویہ بانی ایم کیوایم سے مختلف نہیں، مسلم لیگ ن کے بھی حصے ہو چکے ہیں، نوازشریف کے بیانات کی حمایت شہباز شریف بھی نہیں کرتے، وکلا کو نواز شریف کے خلاف باہر نکلنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: میاں صاحب کی سیاست کوشہبازشریف سےسخت خطرہ ہے، فواد چوہدری

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہانگیرترین کیس میں ہم نےیہ نہیں کہا مجھےکیوں نکالا، نظرثانی درخواست دائرکررہے ہیں۔ تحریک کے لیے ڈاکٹرطاہرالقادری نےجو وقت مقرر کیا ہےاس کی سپورٹ کرتےہیں، ان کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے ن لیگ کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آپ کی طرح ڈاکو نہیں، ہم نے کم ازکم  پاکستانی خزانے کو اپنی اے ٹی ایم نہیں سمجھا، جاتی امرامیں سارے ملازمین کی تنخواہیں پنجاب حکومت دیتی۔

اس موقع پر اعجاز چوہدری نے کہا، حکومت زیادہ دیرتک چلتی نظرنہیں آرہی، الیکشن قریب ہیں، راجہ ظفرالحق کی رپورٹ منظرعام پر آنے تک عوام کو چین نہیں آئے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں