The news is by your side.

Advertisement

بھارتی طلبہ فیض احمد فیض کے شعر پڑھ کر احتجاج کرنے لگے

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں ہندو انتہا پسندوں کی نفرت اوردھمکیوں کا نشانہ بننے والی طالبہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں پاکستانی شاعر فیض احمد فیض بھارتی طلبہ کے لیے حریت کا استعارہ بن گئے۔

دہلی یونیورسٹی کے طلبا انتہا پسندوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے لیکن اس مہم کو شروع کرنے والی اس احتجاج میں شامل نہیں، دھمکیاں ملنے کے بعد گر مہر کور نے خود کو مہم سے علیحدہ کرلیا ہے۔

مجھے تنہا چھوڑ دیں‘ گرمہر کور

بھارتی طالبات نے احتجاج کے دوران گر مہر کور سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اس دی جانے والی ریب کی دھمکیوں پر شدید غم وغصے کیا‘ اس موقع پر طالبات نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔

ان پلے کارڈز میں سب سےنمایاں جو تھا اس پر پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کی نظم ’بول‘ کا مشہورِ زمانہ مصرعہ بول کے لب آزاد ہیں تیرے درج تھا۔


فیض احمد فیض کی نظم


بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے


گر مہر کور نے منگل کی صبح ٹوئٹر پر اعلان کیا، میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں، گذارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں، مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ہے، مجھے شوسل میڈیا پر بہت دھمکیاں دی جارہی ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ آپ کیلئے بہت خوفناک ہوجاتا ہے جب لوگ آپ کو تشدد اور ریپ کی دھمکیاں دے رہے ہوں۔

پاکستان کی حمایت پرنئی دہلی کے کالج کی طالبہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

کارگل میں ہلاک ہونے والی بھارتی فوجی کی بیٹی نے ہندو انتہا پسندوں کے خلاف آواز اٹھائی اور سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیا تھا کہ ’’میرے والد کو پاکستان نے نہیں جنگ نے مارا‘‘ یہ کہنے کے بعد گر مہر کور کا جینا عذاب کردیا گیا، انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔

خیال رہے کہ بھارتی طالبہ کے والد بھارت آرمی میں کیپٹن تھے اور 1999 میں پاکستان کے ساتھ منسلک سرحد پر ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں