The news is by your side.

Advertisement

ٹارگٹ کلرز کی حوالگی کیلئے رینجرز کا ایم کیو ایم کو خط

کراچی : رینجرز نےایک سوستاسی ٹارگٹ کلرز کی حوالگی کیلئے ایم کیوایم کوخط لکھ دیا۔ خط ایم کیوایم کےمرکزنائن زیرو کے پتے پر ارسال کیاگیا ہے۔

رینجرز نے ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار کو خط میں ایک سو ستاسی ٹارگٹ کلرز کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ رینجرز نے خط کے ساتھ ایک سو ستاسی ٹارگٹ کلرز کے کے نام اور جرائم کی فہرست بھی فاروق ستار کو دی ہے، رینجرز حکام کا کہنا ہے ایک سو ستاسی ٹارگٹ کلرز کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے ٹارگٹ کلرز کراچی میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے قاتل ہیں۔ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر بھیجے جانے والے رینجرز کے خط کے ساتھ دی گئی فہرست کے مطابق ایم کیوایم کے ایک سو ستاسی ٹارگٹ کلرز نے کس کس پولیس اہلکار کو قتل کیاتھا اس کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے شکار پولیس افسران میں ڈی ایس پی رحیم بنگش، ڈی ایس پی محمد نواز رانجھا ایس پی او جمشید ٹاؤن، ڈی ایس پی بشیر احمد نوارانی، ڈی ایس پی شمیم حسین ڈسٹرکٹ سینٹرل شامل ہیں۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے ٹارگٹ کلرز ڈی ایس پی، انسپکٹر، سب انسپکٹر، اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبلز کے قاتل ہیں۔

رینجرز کی فہرست کے مطابق ایم کیوایم کے ساجدعرف ایل ایم جی،سعیدعرف ڈانسرٹارگٹ کلرز میں شامل ہیں۔ سعیدعرف چھوٹاپہلوان،سلیم ڈینٹر شکیل عرف سرکٹ،شاہد عرف دنبہ، شکیل عرف ریپیٹر پولیس افسران اور اہلکاروں کے قاتل ہیں۔

ساجدعرف ایل ایم جی پرسی آئی اےصدرکےاہلکارکے قتل کا الزام ہے۔ سعد احمد ڈی ایس پی بشیر احمد نورانی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

اکرم عرف کانا 3پولیس اہلکاروں کاٹارگٹ کلر ہے۔ امجد ٹی ٹی 2پولیس اہلکاروں کاقاتل ہے۔ سابق ایس ایچ او ذیشان کاظمی کے قتل میں ٹارگٹ کلر حیدر ملوث ہے۔

  ڈاکٹرفاروق ستار کو خط رینجرز کے لیفٹیننٹ کرنل حسن اختر کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔

علاوہ ازیں پولیس افسران و اہلکاروں کےٹارگٹ کلرزکےبعد رینجرز نےپراسیکیوٹرزکےٹارگٹ کلرزکی فہرستیں بھی تیار کرلیںْ۔

ذرائع کے مطابق پراسیکیوٹرزکےقاتلوں کی فہرست جلد منظرعام پر لائی جائے گی، اس کے علاوہ دھمکیاں دینےوالےگروپس کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رینجرزنےسینیٹ میں340ٹارگٹ کلرزکی فہرست پیش کی تھی، اس کے علاوہ 340ٹارگٹ کلرزکی فہرست گورنرسندھ کوبھی ارسال کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں