The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل

کراچی: پاکستان تحریکِ انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ ماضی کی طرح ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہے،  دونوں جماعتوں کے درمیان اس بار اختلافات کی وجہ سندھ کی انتظامی تقسیم بنی ہے۔

دو ہزار سات میں جب تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی تھی کہ کراچی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا نہیں، پاکستان کا شہر ہے اور ہر پاکستانی کسی بھی شہر جانے کا حق رکھتا ہے تو اس وقت ایم کیو ایم اور تحریکِ انصاف میں اختلافات پہلی مرتبہ واضح انداز سے سامنے آئے۔

بارہ مئی دو ہزار سات کے واقعے اور اختلافات کی بناء پر اُس وقت کی صوبائی حکومت نے کراچی میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی، عمران خان نے متحدہ کے الطاف حسین کیخلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کئی دستاویزی ثبوت فراہم کیے، دونوں جماعتوں کے درمیان کبھی ایک دوسرے کیخلاف سڑکوں پر مظاہروں اور جلسے جلوسوں کی صورت میں، کبھی شہر کی دیواروں پر مخالفانہ نعروں کی چاکنگ کےذریعے اورکبھی ایوان کےفلور میں تقاریر اور کبھی ٹی وی اسکرین اور اخباری صفحات پر سرد اور گرم جنگ کا سلسلہ چلتا رہا ہے۔

اختلافات کی چنگاریوں نے دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے دوران شعلے کا روپ دھارا جب کراچی میں تحریکِ انصاف کیجانب سے مرکزی رہنماء زہرہ شاہد کے قتل کا الزام ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر لگایا گیا، جس کا ایم کیو ایم کیجانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے عمران خان پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا گیا، انتخابات کے دوران بھی کچہ اختلافات سامنے آئے تاہم اس کے بعد ایک عرصے تک دونوں جماعتوں میں معاملات معمول پر رہے۔

اب ایک بار پھر متحدہ کیجانب سندھ کی انتظامی لحاظ سے تقسیم کے مطالبے کے بعد اختلافات کی دبی چنگاریاں شعلے کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں