site
stats
اہم ترین

ڈاکیارڈ حملے میں اندرونی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا،خواجہ آصف

اسلام آباد : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیرِدفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کے باہر بیٹھنے والے انا کی جنگ لڑرہے ہیں، پاکستان نیوی ڈاکیارڈ حملے میں اندرونی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

پارلیمنٹ اجلاس میں خواجہ آصف نے پاکستان نیوی ڈاکیارڈ پر حملے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ ستمبر کو ڈاکیارڈ پردہشت گردوں نے حملہ کیا، جسے نیوی کے جانباز اہلکاروں نے ناکام بنا دیا، حملے میں ایک نیوی افسر نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ڈاکیارڈ پرہونے والے حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے اورسات کو گرفتار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں ایک سابق نیوی اہلکار بھی شامل تھا، جسے گزشتہ برس پاک بحریہ سے نکال دیا گیا تھا، گرفتار کئے گئے دہشتگردوں سے تفتیش جاری ہے اوراسی بنیاد پر مزید کئی گرفتاریاں بھی ہوئیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے ڈومیسائل مختلف علاقوں کے ہیں، ایک دہشت گرد کے رابطے شمالی وزیرستان میں تھے، حملہ میں  اندرونی مدد کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کا درِ عمل ہوسکتا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک جانب پاک فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب میں مصروف ہے، دوسری جانب دہشتگردوں کا ردعمل بھی سامنے آرہا ہے جبکہ ہماری توجہ صرف اور صرف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنوں پر ہے۔

خواجہ آصف نے میڈیا، سیاسی رہنماؤں ، منتخب نمائندوں اور عوام سے اپیل کی کہ پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے انا کی جنگ لڑنے والوں کے مقابلے میں ملک کے لئے جانوں کی قربانی پیش کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں،  انا کے لئے کرائے کے لوگوں کو لاکر پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ بستی لگانے والوں کو آئین، قانون اور پارلیمنٹ کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوگا۔

اراکین کے سوال پر وزیرِدفاع خواجہ آصف نے کوئٹہ اسمنگلی حملے کی تفصیلات بھی دیں، انھوں نے بتایا کہ سمنگلی ایئربیس پر چودہ اگست کوحملہ کیا گیا، حملے میں  چار دہشتگرد مارے گئے جبکہ راکٹ حملوں میں دیوارکو نقصان پہنچا، اندر داخل ہونیوالے دو دہشتگرد مارے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top