The news is by your side.

Advertisement

ڈرامے کے ایک کردار کی موت جو دردناک حقیقت بن گئی!

یہ ایک درد ناک واقعہ ہے، ایک ایسی حقیقت جس کا تعلق ایک ڈرامے سے ہے۔ یہ ایک زندگی کے الم ناک انجام کی داستان ہے جس نے شیکسپیر کے مشہورِ زمانہ اور شاہ کار ڈارمے ہملٹ کے بطن سے جنم لیا۔ ہم اسے حیرت انگیز اتفاق کہہ سکتے ہیں۔

مشہور مصور ہولمین ہنٹس نے شیکسپیر کے ڈرامے کے ایک منظر میں رنگ بھرنے کا سوچا اور اس کے لیے مسز روزیٹی کو منتخب کیا۔ یہ خاتون مصور کے حلقۂ احباب میں سے تھی۔ ہولمین ہنٹس کو ہملٹ کا وہ منظر کینوس پر منتقل کرنا تھا جس کا ایک کردار اوفیلیا تھی جس کی موت ایک حوض میں ڈوبنے سے واقع ہوئی تھی۔

ہولمین ہنٹس نے اپنے اسٹوڈیو میں ایک بڑے ٹب کا انتظام کیا جس میں پانی بھر کر اس کے نیچے آگ روشن کر دی جاتی تھی تاکہ پانی گرم رہے اور ماڈل کو پانی میں رہنے کی وجہ سے انگلینڈ کا سرد ترین اور یخ بستہ موسم کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ مسز روزیٹی اپنے گھر سے اوفیلیا کا سوانگ بھر کر آتی اور اس ٹب میں مصور کی ہدایات کے مطابق لیٹ جاتی۔ ہولمین تصویر کشی شروع کرتا اور یونہی متعدد دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

ایک روز معمول کے مطابق مسز روزیٹی کی آمد ہوئی اور وہ پانی سے بھرے ہوئے ٹب میں لیٹ گئی۔ بدقسمتی سے ہولمین ہنٹس اس روز ٹب کے نیچے آگ جلانا بھول گیا۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے آگ جلائی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ماڈل کو پانی میں لیٹتے ہوئے کوئی کچھ محسوس نہ ہوا۔

کہتے ہیں کہ کسی وجہ سے آگ بجھ گئی تھی اور دونوں ہی اس بات سے بے خبر رہے۔ مصور نے منظر کینوس پر اتارنا شروع کیا اور اس میں اتنا منہمک رہا کہ اسے کسی بات کا احساس نہ ہو سکا۔ مسز روزیٹی کی موت واقع ہو چکی تھی۔ جاڑے کا موسم اور پانی نے اس ماڈل کے بدن کو گویا منجمد کر دیا۔ وہ نمونیہ کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئی. شیکسپیر کے ڈرامے میں اوفیلیا نے بھی زندگی کی بازی ہار دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں