کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیں گے، وزیرِاعظم -
The news is by your side.

Advertisement

کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیں گے، وزیرِاعظم

کراچی : وزیرِاعظم نواز شریف نے کراچی میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں سماعت کیوں نہیں ہورہی، انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں چالان پیش کرنے میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ ایم کیو ایم کے کارکنان کو قتل کرنے والے کون  ہے؟ قتل میں جو بھی ملوث ہے سامنے لایا جائے ۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم کے کارکنان کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں دیں گے، کارکنان کے قتل میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ ایم کیو ایم کارکنان کے قتل کیس کے تقاضے پورے کئے جائیں، انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن سہیل احمد کے خاندان اور بچوں سے ملاقات ہوئی ، فراز عالم اور ریحان کا قتل سنگین واقعات ہے۔

وزیرِاعظم نے قومی ایکشن پلان کے حوالے سے کہا کہ قومی ایکشن پلان کسی ایک جماعت کا نہیں سب کا ہے، قومی ایکشن پلان میں تمام سیاسی جماعتیں موجود تھیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مل کر چلیں۔

انھوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کی رضامندی سے کراچی آپریشن شروع کیا گیا ، کراچی آپریشن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

وزیرِاعظم نے کراچی میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، وزیرِاعظم نواز شریف نے دہشتگردی کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کراچی کا امن تباہ کرکے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

وزیرِاعظم نے گورنر اور وزیرِاعلیٰ کو صوبے میں سیاسی استحکام بر قرار رکھنے کا ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیوا یم کے تحفظات دور کئے جائیں۔

کراچی پہنچنے پر گورنر اور وزیرِاعلیٰ سندھ سے ملاقات میں وزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کراچی کا امن تباہ کرکے ملکی معیشت کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، کراچی کا امن ہماری اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ہیں، وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت امن و امان کے اجلاس میں وزیرِاعظم کو اپیکس سندھ کے فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا گیا اور کراچی آپریشن پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار،اسحاق ڈار، گورنر، وزیرِاعلیٰ سندھ ، ڈی جی رینجرز، آئی جی اور دیگر شریک تھے، اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے وزیرِاعظم کو بتایا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔

وزیرِاعظم نواز شریف نے گورنر ہاؤس کراچی میں ایم کیو ایم کے مقتول کار کن سہیل احمد ،ریحان احمد اور فراز عالم کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا، ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے مقتولین کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے تینوں کارکنوں کی پر اسرار ہلاکت سے متعلق دریافت کیا اور حکومت سندھ کو جوڈیشل انکوائری کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر کسی کا ماورائے عدالت قتل ہوا ہے تو ملوث عناصر کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات جلد دور کیے جائینگے، کراچی میں حالت اب پہلے سے بہتر ہیں، پولیس اور رینجرز نے امن وامان کےلیے بڑی قربانیاں دیں ۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیرِاعظم نوازشریف نے ایم کیوایم کے یونٹ انچارج سہیل احمد کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے چوہدری نثار سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ واقعے کی تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی ساؤتھ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں