The news is by your side.

Advertisement

کراچی کے مشہورگرلزکالج کے شعبہ جات بند ہونے لگے

کراچی : سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم کی تعلیم دشمن پالیسی کے سبب کراچی کے مشہور گرلزکاج میں جنرل ہسٹری اورسوشل ورک کے شعبہ جات ختم کئے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد اور بنارس سے متصل عبداللہ گرلزکالج میں رواں سال اساتذہ نہ ہونے کے سبب جنرل ہسٹری اورسوشل ورک کے شعبہ جات میں داخلے نہیں لئے جائیں گے۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق کالج کے شعبہ جات کے لحاظ سے مقررکردہ تدریسی عملے کی تعداد 77 ہونی چاہئیے جبکہ صرف 37 اساتذہ کی کالج میں پوسٹنگ ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال سوشل ورک اورجنرل ہسٹری میں اساتذہ کی عدم موجودگی کے سبب داخلے نہیں لئے جائیں گے جبکہ ابلاغِ عامہ اورکامرس کے لئے بھی کوئی ٹیچرموجود نہیں ہے اوراس بارے میں سوچ بچار کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق دیگر شعبہ جات کے لئے بھی صرف ایک ٹیچ موجود ہے جو کہ عبداللہ گرلزکالج جیسے بڑے کالج کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

اے آر وائی نیوز کو بتایا گیا ہے کہ محمکہ تعلیم کی جانب سے ریٹائر ہوجانے والے اساتذہ کی جگہ نئے اساتذہ کی تعیناتی نہیں کی جارہی جس کے باعث یہ ساری صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

اس ساری صورتحال سے سندھ حکومت کی خواتین کی تعلیم کے بارے میں بلند و بانگ دعووں کی قلعی کھل گئی ہے کیونکہ لگ بھگ اسی نوعیت کی صورتحال کراچی سمیت سندھ بھرکے ہرسرکاری اسکول اورکالج میں درپیش ہے۔

اورنگی ٹاؤن میں واقع ایک سرکاری اسکول کی سینئر ٹیچر کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں ان کے اسکول کی 7 اساتذہ ریٹائر ہوچکی ہیں اور چند انتقال کرچکی ہیں اور ان کے بدلے اتنے عرصے میں صرف ایک ٹیچر بھرتی کی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں