The news is by your side.

Advertisement

ہلاکتوں کی ذمہ دار وفاقی وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک ہیں

کراچی : وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ قدرتی آفت پر سیاست چمکانا اس آفت سے جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ اگر کراچی سمیت سندھ میں بجلی کا بحران نہ ہوتا تو 50 فیصد ہلاکتوں میں کمی ہوسکتی تھی۔

حالیہ گرمی کی شدت کے باعث سندھ بھر اور بالخصوص کراچی میں ہلاکتوں کی ذمہ دار وفاقی وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک ہیں ۔

کراچی میں گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد ضیعف اور بڑی عمر کے مرد و خواتین کی ہے اور زیادہ تر اموات گھروں میں گھنٹوں بجلی کی بندش کے باعث ہوئی ہیں۔حکومت سندھ کی جانب سے تمام سرکاری اسپتالوں میں گرمی کے باعث آنے والے مریضوں کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

سالانہ اربوں روپے منافع کمانے والی کے الیکٹرک انتظامیہ نے خود اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے پاس ترسیلی نظام موثر نہیں ہے اور شدید گرمی میں ان کا نظام ناکارہ بن گیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عباسی شہید اسپتال کے اچانک دورے کے بعد وہاں موجود میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی روشن شیخ، میونسپل کمشنر کراچی سمیع صدیقی، ڈی سی سینٹرل افضل زیدی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں سندھ حکومت کی جانب سے تمام تر سہولیات فراہم کردی گئی ہیں، سندھ کے مختلف اسپتالوں میں تمام سرکاری مشینری موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کی جانب سے اس سلسلے میں سندھ حکومت اور کے الیکٹرک کے خلاف مقدمات کے اندراج کا اعلان کیا گیا ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہو ں کہ جب پشاور میں شدید بارشوں سے ہلاکتیں ہورہی تھیں اور اس صوبے کے وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں اسٹیج پر دھرنے میں رقص کررہے تھے۔

اس وقت انہیں عوام کی کون سی مصیبت یاد آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جاں بحق ہونے پرسیاست کرنا ان ہلاک شدگان اور ان کے لواحقین کے غموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں