site
stats
کھیل

یونس خان تمام ٹیسٹ ممالک کیخلاف سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی

دبئی: قومی کرکٹ ٹیم کے بلے باز یونس خان نے تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں کیخلاف سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرلیا اور ساتھ ہی آسٹریلیا کیخلاف سنچری بنا کر انضام الحق کا 25 ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا ہے۔

  اس اعزاز پر بیحد خوشی ہے اور فخر ہے کہ میں پہلا پاکستانی ہوں جس نے تمام ملکوں کے خلاف سنچریاں بنائیں، 36 سالہ یونس خان نے سات رنز دو کھلاڑی آؤٹ کی نازک صورتحال پر پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کھیل کو سنبھالا اور اختتام تک اسے 219 رنز4 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچا دیا۔

دبئی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف یونس خان کی یہ پہلی سنچری تھی، جس کے بعد وہ دنیا کے 12ویں بیٹسمین بن گئے ہیں، جنہوں نے تمام ٹیسٹ ملکوں کیخلاف سنچریاں بنائیں، یہ ان کی 25ویں سنچری تھی، جس سے وہ انضمام الحق کے برابر پہنچ گئے ہیں۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے گیری کرسٹن اور جیک کیلس، سری لنکا کے مارون اتاپتو، مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا، آسٹریلیا کے سٹیووا، رکی پونٹنگ اور ایڈم گلکرسٹ، بھارت کے سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریورڈ جبکہ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ جب میں نے سری لنکا میں 177رنز بنائے اور محمد یوسف کا 24 سنچریوں کا ریکارڈ برابر کر دیا تو میرے ذہن میں آیا کہ میں نے آسٹریلیا کے خلاف کوئی سنچری نہیں بنائی اور مجھے انضمام الحق کا ریکارڈ برابر کرنا چاہئے، یہ میرے لئے بڑے فخر کی بات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تین ایک روزہ میچوں کی سیریز مکمل طور پر ہارنے کے بعد یہ میچ آسان نہیں تھا، میں ہمیشہ ملک کیلئے کھیلا ہوں اور جب بھی ٹیم کو میری ضرورت ہوتی ہے میں مثبت کرکٹ کھیلتا ہوں، میرے ذہن میں صرف یہی ہوتا ہے کہ اگر میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں گا تو ایک بافخر پاکستانی بنوں گا۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ہمیں کم از کم 400رنز بنانے ہوں گے لیکن یہ کام آسان نہیں، آسٹریلیا بہت مشکل ٹیم ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر مچل جانسن نے بھی یونس خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے شروع میں دو وکٹیں حاصل کر لی تھیں لیکن یونس خان نے بہت اچھی بیٹنگ کی اور صبر وتحمل سے کھیلے اور اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرلیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top