The news is by your side.

Advertisement

اپنے بچوں کو یہ 10 عادات ضرور سکھائیں

جب آپ بچوں کے والدین بنتے ہیں تو آپ کے اوپر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ آپ کی تربیت ہی آپ کے بچے کو معاشرے کے لیے کار آمد یا تخریب کار بنا سکتی ہے۔

ویسے تو تمام والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ سچ بولے، ایمان دار ہو، بڑوں کی عزت کرے، اور بہادر بنے لیکن اس کے لیے آپ کو اس کی تربیت بھی انہی خطوط پر کرنی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: بچوں کی تربیت میں کی جانے والی غلطیاں

ایسا نہ ہو کہ آپ خود کچھ غلط کر رہے ہیں اور اس کے برعکس اپنے بچے کو وہی کام درست کرنے کا کہہ رہے ہوں تو اس کا سب سے پہلا سوال یہی ہوگا، ’آپ بھی تو یہ کرتے ہیں‘۔

آج ہم آپ کو ایسی ہی 10 اہم عادات بتانے جارہے ہیں جو آپ کو اپنے بچوں کو ضرور سکھانی چاہئیں تاکہ وہ ایک ہمدرد اور اچھا انسان ثابت ہوسکے۔


سب کی عزت کرو

صرف بچیوں کو سب کی عزت کرنے یا بچوں کو لڑکیوں کی عزت کرنے کا سبق نہ دیں۔ دونوں کو سکھائیں کہ انہیں ہر ایک کی عزت کرنی چاہیئے۔


غلطیوں کو درست کریں

اگر آپ کے بچے نے ہوم ورک غلط کیا ہے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے سمجھائیں کہ کون سا کام کس طرح کرنا چاہیئے۔


گریڈز کو اہمیت نہ دیں

اپنے بچے پر زور نہ ڈالیں کہ وہ اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن یا اچھے گریڈز لے کر آئے۔ اس کے برعکس اگر وہ کم نمبرز لائے تو اس کی تعریف کریں کہ اس نے کچھ نیا سیکھا، اور اسے نرمی سے مزید سیکھنے اور پڑھنے پر اکسائیں۔


دشمن مت بنیں

بچوں کے ساتھ ہر وقت سختی کا رویہ اختیار نہ کریں کہ وہ اپنی غلطیوں کو آپ سے چھپانے لگیں۔ ان سے دوستانہ تعلقات رکھیں تاکہ وہ اپنی زندگی کی ہر چیز آپ کو بتائے اور آپ کو علم ہوتا رہے کہ آپ کا بچہ صحیح سمت میں جارہا ہے یا غلط سمت میں۔


اپنے لیے کھڑا ہونا سکھائیں

اپنے بچوں کو خود اعتماد بنائیں اور انہیں اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا اور بولنا سکھائیں۔ انہیں ایسا مت بنائیں کہ کوئی بھی ان کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی کر جائے اور وہ چپ چاپ سہہ جائیں۔


کسی کے کہنے پر غلط کام مت کرو

اپنے بچوں کو سکھائیں کہ جس کام کو وہ ناپسند کرتا ہے اسے کسی کے کہنے پر بھی نہ کرے۔ مثلاً کھیل کے دوران اگر بچوں میں لڑائی ہوجاتی ہے اور آپ کا بچہ جھگڑالو طبیعت کا نہیں، تو اسے سمجھائیں کہ اپنے دوستوں کے اکسانے پر بھی وہ لڑائی جھگڑا نہ کرے۔


سوال پوچھنا سکھائیں

اپنے بچوں کو بتائیں کہ سوال پوچھنا کم عقلی کی نہیں بلکہ ذہانت کی نشانی ہے۔ بعض بچے سوچتے ہیں کہ کلاس میں اگر انہوں نے استاد سے کچھ پوچھا تو سب سوچیں گے کہ وہ کم عقل ہے جسے سمجھ نہیں آیا۔

اپنے بچے کے اندر سے اس خوف کو باہر نکال پھینکیں۔


انہیں پس منظر میں رہنا نہ سکھائیں

بعض بچے اسکول میں جا کر کسی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے استاد کو یہ بتایا تو سب کی توجہ اس کی طرف مرکوز ہوجائے گی۔

اپنے بچے میں خود اعتمادی پیدا کریں اور اسے سمجھائیں کہ اگر وہ اسکول میں کسی پریشانی کا شکار ہے تو اپنے ٹیچرز سے اس بارے میں بات کرے۔


ماحول کی حفاظت کرنا سکھائیں

اپنے بچے کو ماحول اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرنا سکھائیں۔ اسے پانی کا کم استعمال، پھولوں اور درختوں سے محبت اور اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا سکھائیں۔


نہ کہنا سکھائیں

اپنے بچوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کے ساتھ اسے ’نہ‘ کہنا بھی سکھائیں۔ اسے بتائیں کہ ضروری نہیں ہر وہ شخص جو اس سے بڑا ہو وہ درست ہی کہے۔

اگر اسے لگتا ہے کہ اسے کوئی غلط کام کرنے کو کہا جارہا ہے تو اس میں اتنا حوصلہ پیدا کریں کہ وہ ’نہ‘ کہہ سکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں